لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

سوال:کیا عذر کی وجہ سے کرسی پر بىٹھ كرنماز پڑھ سکتے ہیں اور اس میں سجدے کا طریقہ کیاہو گا،نیز کرسی پرنماز پڑھنا افضل ہے،یا زمین پر بیٹھ کر؟جزاك اللہ خىرا ۔

الجواب باسم ملهم الصواب

جو شخص بیماری کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قادر نہیں، یا کھڑے ہونے پر قادر ہے، لیکن زمین پر بیٹھ کر سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہے، یا قیام و سجود کے ساتھ نماز پڑھنے کی صورت میں بیماری میں اضافہ یا شفا ہونے میں تاخیر یا ناقابلِ برداشت درد کا غالب گمان ہو تو ان صورتوں میں زمین یا کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے،نىز زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھناافضل ہے، اوراس صورت میں اس کی نماز اشاروں والی ہوتی ہے،اشارے سے ركوع وسجدہ كرے،اور سجدہ كے اشارہ مىں ركوع كے اشارہ سے زىادہ جھكے،اور جو شخص فرض نماز میں مکمل قیام پر تو قادر نہیں،لیکن کچھ دیر کھڑا ہو سکتا ہے اور سجدہ بھی زمین پر کرسکتا ہے، توایسے شخص کے لیے اتنی دیر کھڑا ہونا فرض ہے، اگر چہ کسی چیز کا سہارا لے کر کھڑا ہونا پڑے، اس کے بعد بقیہ نماز  بیٹھ كرركوع وسجود كے ساتھ پڑھنالازم ہے،سجدہ پر قدرت كے باوجود کرسی یا زمین پر بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھنے سے نماز نہیں ہوگی،اسى طرح کسی قابلِ برداشت معمولی درد یا کسی موہوم تکلیف کی وجہ سے فرض نماز میں قیام کو ترک کردینا اور بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں، اس سے بھی نماز ادا نہیں ہوگی۔

(الباب الرابع عشر في صلاة المريض) إذا عجز المريض عن القيام صلى قاعدا يركع ويسجد، هكذا في الهداية وأصح الأقاويل في تفسير العجز أن يلحقه بالقيام ضرر وعليه الفتوى، كذا في معراج الدراية، وكذلك إذا خاف زيادة المرض أو إبطاء البرء بالقيام أو دوران الرأس، كذا في التبيين أو يجد وجعا لذلك فإن لحقه نوع مشقة لم يجز ترك ذلك القيام، كذا في الكافي.ولو كان قادرا على بعض القيام دون تمامه يؤمر بأن يقوم قدر ما يقدر حتى إذا كان قادرا على أن يكبر قائما ولا يقدر على القيام للقراءة أو كان قادرا على القيام لبعض القراءة دون تمامها يؤمر بأن يكبر قائما ويقرأ قدر ما يقدر عليه قائما ثم يقعد إذا عجز قال شمس الأئمة الحلواني – رحمه الله تعالى – هو المذهب الصحيح ولو ترك هذا خفت أن لا تجوز صلاته، كذا في الخلاصة.ولو قدر على القيام متكئا الصحيح أنه يصلي قائما متكئا ولا يجزيه غير ذلك لو قدر على أن يعتمد على عصا أو على خادم له فإنه يقوم ويتكئ، كذا في التبيين… وإن عجز عن القيام والركوع والسجود وقدر على القعود يصلي قاعدا بإيماء ويجعل السجود أخفض من الركوع، كذا في فتاوى قاضي خان حتى لو سوى لم يصح، كذا في البحر الرائق.وكذا لو عجز عن الركوع والسجود وقدر على القيام فالمستحب أن يصلي قاعدا بإيماء وإن صلى قائما بإيماء جاز عندنا، هكذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوى الهندية،۱/۱۳۶)

(وإن تعذرا)ليس تعذرهما شرطا بل تعذر السجود(لا القيام أومأ)بالهمز( قاعدا )وهو أفضل من الإيماء قائما لقربه من الأرض(ويجعل سجوده أخفض من ركوعه)لزوما(ولا يرفع إلى وجهه شيئا يسجد عليه)فإنه يكره تحريما(فإن فعل)بالبناء للمجهول ذكره العيني(وهو يخفض برأسه لسجوده أكثر من ركوعه صح)على أنه إيماء لا سجود إلا أن يجد قوة الأرض(وإلا) يخفض(لا)يصح لعدم الإيماء(الدر المختار،۲/ ۹۷)

أقول الحق التفصيل وهو أنه إن كان ركوعه بمجرد إيماء الرأس من غير انحناء وميل الظهر فهذا إيماء لا ركوع فلا يعتبر السجود بعد الإيماء مطلقا وإن كان مع الانحناء كان ركوعا معتبرا حتى أنه يصح من المتطوع على القيام(حاشية ابن عابدين،۲/۹۸)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4645 :

لرننگ پورٹل