لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022

سوال:السلام علیکم!   پراپرٹی ڈیلر ایک پارٹی سے ایک پلاٹ کا سودا کرتا ہے ایک کروڑ میں اور رقم کی ادائیگی ایک ماہ بعد کرنی ہے، جبکہ اس کے پاس صرف ایک لاکھ روپے موجود ہیں جو وہ بیعانہ دیتا ہے۔ اسی ایک ماہ کے دوران وہ یہ پلاٹ کسی دوسرے فرد کو ایک کروڑ بیس لاکھ میں بیچ دیتا ہے اور رقم کی ادائیگی اس سے کروا کر بیس لاکھ کا پرافٹ کما لیتا ہے۔ کیا یہ پرافٹ جائز ہوگا؟

الجواب باسم ملهم الصواب

اگر بیعانہ دیتے ہوئے باقاعدہ ایجاب و قبول کے ذریعے  زمین کی خریداری کی جا چکی ہے اور زمین پر باضابطہ قبضہ حاصل کرلیا گیا ہے کہ ہر صورت میں اس کے ذمہ ایک کروڑ لازم ہے اگرچہ اس کو آگے نوے لاکھ میں فروخت کرنا پڑےتو خریدار زمین کا مالک بن چکا ہے، اس صورت میں خریدار کے لیے اس زمین کو آگے بیچ کر منافع کمانا جائز ہے ۔

(وأما) بيع المشتري العقار قبل القبض فجائز عنه عند أبي حنيفة، وأبي يوسف استحسانا، وعند محمد، وزفر، والشافعي – رحمهم الله – لا يجوز قياسا، واحتجوا بعموم النهي الذي روينا؛ ولأن القدرة علی القبض عند العقد شرط صحة العقد لما ذكرنا، ولا قدرة إلا بتسليم الثمن، وفيه غرر، ولهما عمومات البياعات من الكتاب العزيز من غير تخصيص، ولا يجوز تخصيص عموم الكتاب بخبر الواحد عندنا، أو نحمله علی المنقول توفيقا بين الدلائل صيانة لها عن التناقض؛ ولأن الأصل في ركن البيع إذا صدر من الأهل في المحل هو الصحة، والامتناع لعارض الغرر، وهو غرر انفساخ العقد بهلاك المعقود عليه. ولا يتوهم هلاك العقار فلا يتقرر الغرر فبقي بيعه علی حكم الأصل. (بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع)

لیکن اگر بیعانہ محض خریداری کے وعدے کے طور پر ادا کیا گیا ہے، اور  باقاعدہ ایجاب و قبول نہیں کیا گیا تو اس صورت میں بیعانہ دینے والا شخص  زمین کا مالک نہیں۔ لہذا اس صورت میں اس زمین کو   آگے بیچناجائز نہیں کیونکہ یہ بیع قبل القبض میں داخل ہونے کی بنا پر ممنوع ہے۔

لأن بيع ما لا يملك باطل كما علم مما مر. (رد المحتار، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3815 :

لرننگ پورٹل