لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022

سوال: السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس بارے میں کہ اگر دو شخص باہم رضامندی سے قربانی کے لیے جانور بیچنے کے حوالے سے اس طرح معاملہ طے کریں کہ ایک شخص جانور خریدے گا اور دوسرا شخص (خریدنے والے سے خرچہ لیے بغیر) ان کو پالے گا اور جب ان میں سے کسی جانور کو بیچا جائے گا تو پہلے وہ قیمت جو جانور کو خریدتے وقت ادا کی گئی تھی اس کو الگ کرکے اسے دی جائیگی جس نے وہ جانور خریدا تھا اور پھر منافع کو آدھا آدھا تقسیم کیا جائے گا تو کیا ایسا معاملہ درست ہوگا؟

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں ذکر کردہ معاملہ درست نہیں کیوں کہ جانور خرید کر نصف نفع کی شرط پر دیکھ بھال کے لیے دینا شرکتِ فاسدہ کہلاتا ہے، جو شرعاً ناجائز ہے۔ اس کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ معاملہ اس طرح کیا جائے کہ جانور خریدنے والا کل نفع کا حقدار ہو اور دوسرے شخص کے لیے متعین اجرت مقرر کی جائے جو اسے ہر صورت دی جائے۔

(والربح في الشركة الفاسدة بقدر المال، ولا عبرة بشرط الفضل) فلو كل المال لأحدهما فللآخر أجر مثله كما لو دفع دابته لرجل ليؤجرها والأجر بينهما، فالشركة فاسدة والربح للمالك وللآخر أجر مثله(الدر المختار، كتاب الشركة، فصل في الشركة الفاسدة)

رابعا: وكثيرا ما يقع أيضا في شركات البهائم، أن يكون لرجل بقرة، فيدفعها إلی آخر ليتعهدها بالعلف والرعاية، علی أن يكون الكسب الحاصل بينهما بنسبة ما كنصفين. وهذه أيضا شركة فاسدة: لا تدخل في شركة الأموال، إذ ليس فيها أثمان يتجر بها، ولا في شركة التقبل، أو الوجوه، كما هو واضح. والكسب الحاصل إنما هو نماء ملك أحد الشريكين – وهو صاحب البقر. – فيكون له، وليس للآخر إلا قيمة علفه وأجرة مثل عمله. ومثل ذلك دود القز، يدفعه مالكه إلی شخص آخر، ليتعهده علفا وخدمة، والكسب بينهما، وكذلك الدجاجة علی أن يكون بيضها نصفين – مثلا – قالوا: والحيلة أن يبيع نصف الأصل أو ثلثه مثلا بثمن معلوم، مهما قل، فما حصل منه بعد ذلك فهو بينهما علی هذه النسبة. وقد عرفنا نص أحمد والأوزاعي في ذلك، وقضيته تصحيح هذه الشركات كلها – شأن كل عين تنمي بالعمل فيها. كما عرفنا أن جماهير أهل العلم لا يوافقونهما -حتی قال بعض الشافعية: علی القادر أن يمنع من ذلك؛ لما فيه من بالغ الضرر(الموسوعة الفقهية الكويتية، حرف الشين، الشركة الفاسدة)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4022 :

لرننگ پورٹل