لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

سوال:السلام علیکم!میں اسکول میں نوکری کرتی تھی اب میری شادی ہو گئی، میں نے پانچ لاکھ جمع کیے اور بینک میں فکس ڈپازٹ کرا دیے۔ میرے والدین حیات ہیں اور دونوں بیمار بھی ہیں، بھائی والدین کا اس طرح خیال نہیں رکھتے جس طرح رکھنا چاہیے، ابھی دو بہنیں بھی غیر شادی شدہ ہیں، یہ سب ساتھ ہی رهتے ہیں۔ بینک سے جو سود کی رقم ملتی ہے، میں وه اپنے والدین اور بہنوں پر خرچ کرتی ہوں، اپنے لئے استعمال نہیں کرتی کیا یہ درست ہے؟ کیوں بینک کے علاوہ میری رقم محفوظ نہیں کسی کو بھی رقم دی تو رقم بھی ختم اور رشتہ بھی ختم، دوسری طرف سود لینے کا خوف بھی ہے۔جلد جواب دے کر رہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ خیرا

الجواب باسم ملهم الصواب

والدین کی کفالت بہر حال لڑکوں کی ذمہ داری ہے، انھیں چاہیے کہ کما حقہ اپنے والدین کے اخراجات برداشت کریں۔ لیکن اگر وہ اپنے والدین کی کفالت  نہیں کرتے تو آپ کو چاہیے کہ اپنے والدین کی حسب استطاعت کفالت کریں۔

(و) تجب (علی موسر)…(يسار الفطرة)…(النفقة لأصوله) ولو أب أمه ذخيرة (الفقراء) ولو قادرين علی الكسب والقول لمنكر اليسار والبينة لمدعيه (بالسوية) بين الابن والبنت…(والمعتبر فيه القرب والجزئية) فلو له بنت وابن ابن أو بنت بنت وأخ النفقة علی البنت أو بنتها. وقال: فالمعتبر في إيجاب نفقة الوالدين مجرد الفقر. (رد المحتار، كتاب الطلاق، باب النفقة)

 لیکن بینک میں سودی اکاؤنٹ کھولنا اور  سود لینا بہر حال ناجائز ہے، رسول اللہ ﷺ نے سود خور پر لعنت فرمائی ہے، اس لیے سیونگ اکاؤنٹ بند کر دیں۔ ممکن ہوسکے تو کسی جائز ذریعے سے ان کی مدد کی جائے۔ البتہ اب تک جو سود وصول کر چکی ہیں وہ اگر آپ کے پاس موجود ہو وہ صدقہ کی نیت سے والدین کو مالک بنا کر دینا جائز ہے اگر والدین مستحق ہوں۔

لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولی بهم ويردونها علی أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبه. (رد المحتار، كتاب الحظروالاباحة، فصل في البيع)

احسن الفتاوی میں ہے: سود اور ہر قسم کا مال حرام و ارباح فاسدہ بحکم لقطہ ہیں اور بوقت خوف ضیاع لقطہ کا اٹھانا واجب ہے، پھر مالک پر رد اور اس کا علم نہ ہو سکے تو اس کی طرف سے بلا نیت ثواب مساکین پر تصدق واجب ہے۔ (احسن الفتاوی، جلد۷، ص۱۶، باب الربا والقمار)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4020 :

لرننگ پورٹل