لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

سوال: السلام علیکم! ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی جاز کی طرف سےمخلتف پیکیجزملتے ہیں ان میں کوئی قباحت تو نہیں؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

جاز كمپنی كی طرف سے اپنے صارفین كے لیے مختلف سهولیات متعارف كرائی گئی هیں ، اس سب كا حكم ایک جیسا نہیں۔ مختصرا کچھ وضاحت درج ذیل ہے:

1۔ کمپنی اپنی سم استعمال کرنے والے صارفین کو غیر مشروط طور پر کبھی کبھار کچھ فری منٹس وغیرہ کی صورت میں جو سہولیات دیتی ہے یہ کمپنی کی طرف سے انعام ہے، اس لیے ان کا وصول کرنا جائز ہے۔

2۔ اسی طرح کچھ متعین پیکج وغیرہ بھی ہوتے ہیں مثلا سو روپے میں 150 منٹ ایک محدود مدت کے لیے دیے جاتے ہیں۔ ان کا استعمال بھی جائز ہے۔ کیونکہ یہ معاملہ کمپنی کی سہولیات کو متعین رقم  کے بدلے میں خریدنے کے حکم میں ہے۔

3۔ موبائل اکاؤنٹ کھولنے کے بدلے میں سو یا دو سو روپے کا بیلنس یا اضافی سہولیات وغیرہ دی جاتی ہیں۔ ان کا استعمال ناجائز ہے۔ کیونکہ یہ معاملہ  قرض کے بدلے میں منفعت کے حصول کا ہے۔ ان سہولیات کے حصول کے لیے موبائل اکاؤنٹ کھولنا بھی جائز نہیں۔

4۔ اپنے موبائل اکاؤنٹ میں متعین مقدار میں رقم رکھنے پر اضافی منٹس اور میسجز وغیرہ کی صورت میں سہولیات دیتی ہے ان کا حصول بھی جائز نہیں، کیونکہ یہ معاملہ بھی قرض کے بدلے میں نفع حاصل کرنے کا ہے۔

نوٹ: جن صورتوں میں کمپنی کی طرف سے دی گئی سہولیات حاصل کرنا جائز نہیں، اگر کمپنی کا اکاؤنٹ کھولتے ہوئے ان سہولیات کے حصول کی نیت نہ ہو تو اکاؤنٹ کھولنا اور زائد رقم رکھنا بھی جائز ہے۔ لیکن کمپنی ان چیزوں کے بدلے میں جو سہولیات فراہم کر دے اور وہ غلطی یا جان بوجھ کر استعمال کر لی جائیں تو انھیں دوبارہ کمپنی کو لوٹانا ضروری ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ جتنی مالیت کی سہولیات استعمال کر لی گئی ہیں اتنی مالیت کے برابر کمپنی کا کارڈ خرید کر اسے ضائع کر دیا جائے۔

(الف) وفی الأشباه كل قرض جر نفعا حرام. (رد المحتار،کتاب البیوع، مطلب کل قرض جر نفعا حرام)

(ب) ولا یجوز قرض جر نفعا. (البحر الرائق،کتاب البیع، فصل فی بیان التصرف فی المبیع…)

(ج) فی الرد عن الكسب الخبیث: ویردونها علی أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبیل الكسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبه اهـ.

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3925 :

لرننگ پورٹل