لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022

 سوال:السلام علیکم!ٹوپی کے بغیر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ اور ٹوپی کے ساتھ نماز کا کیا اجر وثواب ہے؟ رہنمائی فرمادیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ. (الاعراف، الاية31) ترجمه: ’’جب كبھی مسجد میں آؤ تواپنی خوشنمائی کا سامان (یعنی لباس جسم پر) لے کر آؤ‘‘۔  لہذا اچھی ہیئت پر نماز پڑھنا چاہئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم عمامہ اور ٹوپی دونوں کا استعمال فرمایا کرتے تھے۔

صحیح مسلم میں ہے:دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ(مسلم،کتاب الحج،باب جواز دخول مكة بغير إحرام) ترجمہ:’’آپ ﷺفتح مکہ کے روز داخل ہوئے تو آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا‘‘۔

شعب الایمان میں ہے:عَنِ ابْنِ عُمَرَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْبَسُ قَلَنْسُوَةً بَيْضَاءَ(شعب الایمان، فصل فی العمائم) ترجمہ:’’حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺسفید ٹوپی پہنتے تھے‘‘۔

 اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عادۃ اختیار کئےجانے والے اعمال کو اختیار کرنا بھی باعث ثواب ہے۔

والسنة نوعان : سنة الهدي ، وتركها يوجب إساءة وكراهية كالجماعة والأذان والإقامة ونحوها وسنة الزوائد ، وتركها لا يوجب ذلك كسير النبي عليه الصلاة والسلام في لباسه وقيامه وقعوده والنفل ومنه المندوب يثاب فاعله ولا يسيء تاركه(رد المحتار،کتاب الطهارة، سنن الوضوء)

لہذا ٹوپی لگا کر سرڈھانک کرنماز پڑھنا سنت ہے   ۔ بہتر یہ ہے کہ ٹوپی کے اوپر عمامہ بھی پہنا جائے تاکہ بدرجہ اتم سنت پر عمل ہوسکے لیکن اگر کوئی شخص عمامہ نہیں پہنتا تو کم ازکم ٹوپی  پہنے کیونکہ ننگے سر نماز پڑھنا اگر سستی اور کاہلی کی وجہ سے ہو تو مکروہ ہے یہاں تک کہ ٹوپی اگر گرجائے تو اس کو اٹھا کر دوبارہ سر پر رکھنے کا حکم ہے ،بلاعذر ننگے سر نماز میں کھڑے رہنا مکروہ ہے،لیکن اگر ٹوپی کو حقیر سمجھ کر اتارے اور پہنے سے انکار کرے تو  ایمان چلے جانے کاخوف بھی ہے۔

(الف )  وتكره الصلاة حاسرا رأسه إذا كان يجد العمامة وقد فعل ذلك تكاسلا أو تهاونا بالصلاة ولا بأس به إذا فعله تذللا وخشوعا بل هو حسن. (الدر المختار، کتاب الصلوۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها)

(ب)  (وصلاته حاسرا) أي كاشفا (رأسه للتكاسل) ولا بأس به للتذلل، وأما للإهانة بها فكفر ولو سقطت قلنسوته فإعادتها أفضل إلا إذا احتاجت لتكوير أو عمل كثير. (الفتاوی الهندية، كتاب الصلوة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4088 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل