لاگ ان
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
لاگ ان
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022

سوال:السلام علیکم!صحیح بخاری کے حوالے سے درج ذیل حدیث موصول ہوئی ہے اس کے بارے میں بتادیجیے کیا یہ حدیث صحیح ہے؟

رسول اللہ ﷺ نماز میں دعا کرتے تو یہ بھی کہتے کہ اے اللہ! میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں، کسی نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ قرض سے اتنی پناہ مانگتے ہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ جب ایک آدمی مقروض ہوتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرکے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

الجواب باسم ملهم الصواب

 مذکورہ حدیث صحیح بخاری میں ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلاَةِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا، وَفِتْنَةِ المَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ المَأْثَمِ وَالمَغْرَمِ " فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ المَغْرَمِ، فَقَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ، حَدَّثَ فَكَذَبَ، وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ» (بخاري كتاب الاذان، باب الدعاء قبل السلام)ترجمه:’’ رسول اللہ ﷺ نماز میں دعا مانگا کرتے تھے اے اللہ میں عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور دجال کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اے اللہ میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں تو ایک کہنے والے نے کہا کہ آپ قرض سے بہت زیادہ پناہ مانگتے ہیں (اس کی کیا وجہ ہے) تو حضور ﷺ نے فرمایا بیشک آدمی جب مقروض ہوتا ہے بات کرتے وقت جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کر کے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے‘‘۔

یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ہے۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4139 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل