لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

  پی ایس ایل کے مقابلے میدان میں جاکر دیکھنا اور ٹی وی چینل پر اس کی نشریات دیکھنا جائز تفریحات میں شامل ہے یا نہیں؟ کیونکہ ہمارا دین تو ہمیں بعض جائز تفریحات کی اجازت دیتا ہے۔

الجواب باسم ملهم الصواب

اسلام ایک فطری مذہب ہے، یقینا ایسے کھیل اور تفریح کو جائز بلکہ مستحسن قرار دیتا ہے جس سے طبیعت میں نشاط اور چستی آئے، لیکن ساتھ ساتھ اسلام وقت کی حفاظت اور با مقصد زندگی کے قیام کا بھی حکم دیتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں لہو و لعب کی ممانعت کی گئی ہے۔ لیکن اس لہو و لعب کی ممانعت کا مقصد یہ ہر گز نہیں کہ اسلام میں تفریح کی بھی ممانعت ہے، تفریح ہر گز ممنوع نہیں، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ تفریح جس کے ٹھیک ٹھیک معنی فرحت حاصل کرنے اور جسم و روح کو فرحت پہنچانے کے ہیں وہ اسلام میں نہ صرف جائز بلکہ شرعا ایک حد تک مستحسن و مطلوب ہے تاکہ اس کے ذریعے جسم اور روح کا کسل اور طبعی ملال دور ہو کر دوبارہ طبیعت میں نشاط، چستی، حوصلہ، ہمت اور امنگ پیدا ہو اور انسان ایک بار پھر پوری خوشدلی کے ساتھ زندگی کے اعلیٰ مقاصد کی طرف متوجہ ہو سکے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے چند کھیلوں کا نام لے کر انھیں جائز فرمایا۔ لیکن اس کے برعکس بہت سے کھیل ایسے بھی ہیں جو محض تفریح طبع  کی حدود تک محدود نہیں، ان میں محض وقت کا ضیاع اور دین پر عمل سے دوری، ذکر الٰہی سے غفلت پائی جاتی ہے، اس لیےشریعت میں ان کی ممانعت ہے۔ مثلا:

۱۔جن کھیلوں کی احادیث و آثار میں صریح ممانعت آ گئی ہے وہ ناجائز ہیں جیسے نرد، شطرنج، کبوتر بازی اور جانوروں کو لڑانا وغیرہ۔

۲۔جو کھیل کسی حرام و معصیت پر مشتمل ہوں وہ اس معصیت یا حرام کی وجہ سے ناجائز ہوں گے۔ ان کی کئی صورتیں ممکن ہیں۔ مثلا کسی کھیل میں ستر کھولا جائے یا اس کھیل میں جوا کھیلا جا رہا ہو یا اس میں مرد و زن کا مخلوط اجتماع ہو۔ یا اس میں موسیقی کا اہتمام کیا گیا ہو یا اس کھیل میں کفار کی نقالی کی جا رہی ہو۔

۳۔جو کھیل فرائض اور حقوق واجبہ سے غافل کرنے والے ہوں وہ بھی ناجائز ہوں گے۔ کیونکہ جو چیز بھی انسان کو اس کے فرائض اور حقوق واجبہ سے غافل کرنے والی ہو وہ لہو میں داخل ہو کر ناجائز ہے۔

۴۔جس کھیل کا کوئی مقصد نہ ہو بلا مقصد محض وقت گزاری کے لیے کھیلا جائے وہ بھی ناجائز ہوگا، کیونکہ یہ اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو ایک لغو کام میں ضائع کرنا ہے۔

اس وضاحت کے بعد سوال میں مذکور کھیل کا حکم یہ ہے کہ چوں کہ کرکٹ اسٹیڈیم میں مخلوط اجتماع، موسیقی، گاہے بگاہے رقص، جائز و ناجائز کی عدم تفریق اور نماز وغیرہ سے غفلت جیسے گناہوں کا ارتکاب سر عام ہوتا ہے اور ایسے اجتماع میں شرکت کرنے والا شخص اس طرح کے اجتماعات کے قیام میں ٹکٹ فیس ادا کر کے ان کے انعقاد میں ممد و معاون بھی شمار ہوتا ہے۔ اس لیے مذکورہ بالا منکرات کے باعث اسٹیڈیم میں جا کر کرکٹ دیکھنا جائز نہیں۔

 ٹی وی پر براہ راست نشریات کے ذریعے کرکٹ دیکھنا بھی جائز نہیں، کیونکہ اس کی وجہ سے نمازوں اور دیگر عبادات میں غفلت کا ارتکاب ہوتا ہے، اورغیر محرم خواتین کی تصاویر بھی سامنے آتی ہیں جنھیں دیکھنے سے شریعت نے منع فرمایا ہے۔ اور  اگر نشریات براہ راست نہ ہوں بلکہ محفوظ پروگرام پیش کیا جارہا ہو، تب اسے دیکھنے میں مذکورہ قباحتوں کے علاوہ جاندار  تصویر دیکھنے کی قباحت بھی شامل ہوجاتی ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ. (لقمان:6) ترجمہ:’’ اور کچھ لوگ وہ ہیں جو اللہ سے غافل کرنے والی باتوں کے خریدار بنتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو بےسمجھے بوجھے اللہ کے راستے سے بھٹکائیں اور اس کا مذاق اڑائیں۔ ان لوگوں کو وہ عذاب ہوگا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا‘‘۔

سورۃ الاعراف میں ارشاد ربانی ہے: وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَذَكِّرْ بِهِ أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ وَإِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَا يُؤْخَذْ مِنْهَا أُولَئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِمَا كَسَبُوا. (الأعراف:70) ترجمہ:’’اور چھوڑ دو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے  اور جن کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا ہے، اور اس (قرآن) کے ذریعے (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو، تاکہ ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص اپنے اعمال کے سبب اس طرح گرفتار ہوجائے کہ اللہ ( کے عذاب) سے بچانے کے لیے اللہ کو چھوڑ کر نہ کوئی اس کا یارومددگار بن سکے نہ سفارشی، اور اگر وہ (اپنی رہائی کے لیے) ہر طرح کا فدیہ بھی پیش کرنا چاہے تو اس سے وہ قبول نہ کیا جائے۔ (چنانچہ) یہی (دین کو کھیل تماشا بنانے والے) وہ لوگ ہیں جو اپنے کیے کی بدولت گرفتار ہوگئے ہیں‘‘۔

حدیث مبارکہ ہے: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ». (مشكاة المصابيح، كتاب الآداب) ترجمہ:’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کے اسلام کی اچھائی یہ بھی ہے کہ وہ لا یعنی چیزوں کو چھوڑ دے‘‘۔

عَن عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "كُلُّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَهُ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ ". (مشكاة المصابيح، كتاب الجهاد) ترجمہ:’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ انسان جو کھیل کود بھی کرے باطل ہے مگر تیراندازی، اپنے گھوڑے کی تربیت اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیل، یہ چیزیں درست ہیں‘‘۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 394)

(و) كره تحريما (اللعب بالنرد و) كذا (الشطرنج)…(قوله والشطرنج) معرب شدرنج، وإنما كره لأن من اشتغل به ذهب عناؤه الدنيوي، وجاءه العناء الأخروي فهو حرام وكبيرة عندنا، وفي إباحته إعانة الشيطان علی الإسلام والمسلمين كما في الكافي قهستاني. (الدر المختار مع الرد، كتاب الحظر والإباحة)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4353 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل