لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

ایک شخص نے مدینہ منورہ سے مکہ کا سفر کیا اور چونکہ اس وقت خانہ کعبہ میں طواف پر عارضی پابندی تھی اس لیے محض احرام کی چادریں لپیٹ لیں لیکن نہ احرام کی نیت کی اور نہ ہی تلبیہ پڑھا، اس کا ارادہ یہ تھا کہ مکہ میں جا کر دیکھے گا کہ اگر عمرے کی اجازت ہوئی تو عمرے کا احرام باندھ کر عمرہ کر لے گا۔ لیکن مکہ پہنچتے ہی پولیس نے ان سے زبردستی احرام کی چادریں اتروا لیں اور عمرے کی اجازت بھی نہیں دی۔ تو پوچھنا یہ ہے کہ اب وہ کیا کریں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

مکہ میں عمرے یا حج کے احرام کے بغیر داخل ہونا حرام ہے، طواف وغیرہ پر پابندی تھی تو وہاں جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔ بہر حال اگر بغیر احرام کی نیت کیے مکہ میں چلے گئے تو اب ان پر لازم ہے کہ پابندی ختم ہونے پر دوبارہ میقات پر جا کر عمرے کا احرام باندھیں اور عمرہ ادا کریں، اگر عمرہ کیے بغیر مکہ سے روانہ ہو گئے تو میقات سے بلا احرام تجاوز کرنے پر ایک دم دینا لازمی ہے اور پابندی ختم ہونے کے بعد ان پر عمرے کی ادائیگی بھی واجب ہے۔

قال الحصكفي في كتاب الحج: (فرض . . . مرة) لأن سببه البيت وهو واحد والزيارة تطوع وقد تجب كما إذا جاوز الميقات بلا إحرام فإنه كما سيجيء يجب عليه أحد النسكين فإن اختار الحج اتصف بالوجوب. وقال ابن عابدين: (قوله كما إذا جاوز الميقات بلا إحرام) أي فإنه يجب عليه أن يعود إلی الميقات ويلبي منه، وكذا يجب عليه قبل المجاوزة قال في الهداية ثم الآفاقي إذا انتهی إلی المواقيت علی قصد دخول مكة عليه أن يحرم قصد الحج أو العمرة عندنا أو لم يقصد لقوله – صلی الله عليه وسلم – «لا يجاوز أحد الميقات إلا محرما ولو لتجارة» ولأن وجوب الإحرام لتعظيم هذه البقعة الشريفة، فيستوي فيه التاجر والمعتمر وغيرهما اهـ. (الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الحج)

 (وحرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (ولو لحاجة) غير الحج. وقال ابن عابدین: (قوله وحرم إلخ) فعليه العود إلی ميقات منها وإن لم يكن ميقاته ليحرم منه، وإلا فعليه دم كما سيأتي بيانه في الجنايات. . . وقال في باب الجنايات: محله ما إذا قصد النسك، فإن قصد التجارة أو السياحة لا شيء عليه بعد الإحرام وليس كذلك لأن جميع الكتب ناطقة بلزوم الإحرام علی من قصد مكة سواء قصد النسك أم لا. وقد صرح به المصنف أي صاحب الهداية في فعل المواقيت، فيجب أن يحمل علی أن الغالب فيمن قصد مكة من الآفاقيين قصد النسك، فالمراد بقوله إذا أراد الحج أو العمرة إذا أراد مكة. اهـ. (الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الحج)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4366 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل