لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022

کچھ لوگوں نے ائیر پورٹ سے عمرہ کے لیے احرام باندھ ليے تھے ، کرونا وائرس کی وجہ سے پروازیں منسوخ ہوگئیں اور ان لوگوں کو ائیر پورٹ سے واپس کردیا گیا اور اب یہ بھی کنفرم نہیں کہ اب یہ پابندی کتنے دنوں تک رہے گی۔ اس صورت میں احرام اتارنے یا نہ اتارنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ نیز بعض لوگ ایسے ہیں کہ ہفتہ، دس دن کے بعد گورنمنٹ ملازمت سے چھٹیاں لینے یا دیگر مسائل کی وجہ سے عمرہ کے لیے نہیں جاسکتے، ایسے افراد کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

اگر فی الحال پابندی ختم ہونے کی امید نہیں تو حرم شریف میں موجود لوگوں میں سے کسی سے رابطہ کر کے اپنی طرف سے دم کا جانور ذبح کرنے کا کہہ دیں، جب جانور ذبح ہو جائے تو احرام کھول دیں۔ پابندی ختم ہونے کے بعد جب ممکن ہو عمرے کی قضا کرنا واجب ہے۔ اگر حرم میں دم کے طور پر جانور ذبح نہ کیا تو احرام والا شخص ہمیشہ حالت احرام ہی میں رہے گا۔ اور اس پر احرام کی تمام پابندیاں لاگو ہوں گی۔

الإحصار هو لغة: المنع. وشرعا: منع عن ركن (إذا أحصر بعدو أو مرض)…حل له التحلل فحينئذ (بعث المفرد دما) أو قيمته فإن لم يجد بقي محرما حين يجد أو يتحلل بطواف…(وعين يوم الذبح) ليعلم متی يتحلل ويذبحه (في الحرم ولو قبل يوم النحر) خلافا لهما (ولو لم يفعل ورجع إلی أهله بغير تحلل وصبر) محرما (حتی زال الخوف جاز فإن أدرك الحج فبها) ونعمت (وإلا تحلل بالعمرة)…(وبذبحه يحل) ولو (بلا حلق وتقصير)…(و) يجب (عليه إن حل من حجه) ولو نفلا (حجة) بالشروع (وعمرة) للتحلل إن لم يحج من عامه (وعلی المعتمر عمرة). (الدر المختار، کتاب الحج، باب الإحصار)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4359 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل