لاگ ان
منگل 09 رجب 1444 بہ مطابق 31 جنوری 2023
لاگ ان
منگل 09 رجب 1444 بہ مطابق 31 جنوری 2023
لاگ ان / رجسٹر
منگل 09 رجب 1444 بہ مطابق 31 جنوری 2023
منگل 09 رجب 1444 بہ مطابق 31 جنوری 2023

 ایک آدمی کی فیکٹری ہے، اس میں لاکھوں کی مشینری ہے لیکن حالات کی وجہ سے اس کی فیکٹری بند ہوگئی ہے اور اس کے پاس گھر کا خرچہ بھی نہیں ہوتا تو کیا اس کو زکوة دینا جائز ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص ضرورت سے زائد لاکھوں روپے کی مشینری کا مالک ہے، اس لیے وہ مستحق زکوٰۃ نہیں اس کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہوگا۔

أي المصرف الفقير والمسكين، والمسكين أدنی حالا. وفرق بينهما في الهداية وغيرها بأن الفقير من له أدنی شئ، والمسكين من لا شئ له، وقيل علی العكس ولكل وجه والاول هو الاصح وهو المذهب. كذا في الكافي. والاولی أن يفسر الفقير بمن له ما دون النصاب كما في النقاية أخذا من قولهم يجوز دفع الزكاة إلی من يملك ما دون النصاب أو قدر نصاب غير نام وهو مستغرق في الحاجة. ولا خلاف في أنهما صنفان هو الصحيح.(البحرالرائق،باب المصرف هو في اللغة المعدل قال تعالی)
 

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4306 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


لرننگ پورٹل