لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

السلام علیکم!جو خواتین حج کےلیے اپنے شوہر کے ساتھ جاتی ہیں اور طواف زیارت سے پہلے وہ حائضہ ہوجاتی ہیں یا اسی دن حائضہ ہوجاتی ہیں اور دو تین دن بعد ان کی فلائٹ ہوتی ہے اور انہیں واپس جانا پڑجاتا ہے تو اب انہوں نے طواف زیارت نہیں کیا، ان کےلیے کیا حکم ہے؟ کیا وہ اپنے شوہر کےلیے حلال ہیں؟ اگر ہیں تو شوہر ان کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرسکتا ہے؟ اور اگر نہیں تو پھر ان کا شوہر کے ساتھ تعلق کیسا ہونا چاہیے؟ اب جو یہ حکم ہے کہ عورت اپنے خاوند پر حرام ہے تو کیا یہ قرآن کی نص سے ثابت ہے یا حدیث سے ثابت ہے یا یہ کہ ائمہ مجتہدین کے اقوال سے ثابت ہے؟ یہ صورت بہت سے لوگوں کو پیش آتی ہے۔ اس لیے برائے مہربانی اس کا جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

 اگر طواف زیارت سے قبل ایام حیض شروع ہو جائیں تو پاک ہونے کا انتظار کرنا چاہیے جب پاک ہو جائیں تو طواف زیارت کر کے حلال ہو جائیں، اس تاخیر پر کوئی دم نہیں، اس مقصد کے لیے فلائٹ یا گروپ چھوڑنا پڑے تو چھوڑ دیا جائے، حالت ناپاکی میں طواف نہ کیا جائے، البتہ اگرفلائٹ چھوڑنا ممکن نہ ہو اور  ایسی مجبوری کی حالت میں ناپاکی میں طواف کرکے حلال ہو جائیں  تب بھی حلال ہونا معتبر ہوگالیکن اس پر  اللہ تعالی سے خوب توبہ و استغفار کریں اور اس جنایت کے بدلے ایک اونٹ یا گائے کی قربانی واجب ہوگی ۔

(الف) أما إذا كانت المرأة حائضا أو نفساء فطهرت بعد مضي أيام النحر فلا شيء عليها وهذا إذا حاضت من قبل أيام النحر. (الجوهرة النيرة، كتاب الحج، باب الجنایات فی الحج)

(ب) (قال): وإذا قدمت المرأة مكة محرمة بالحج حائضا مضت علی حجتها غير أنها لا تطوف بالبيت حتی تطهر لقوله – صلی الله عليه وسلم – لعائشة – رضي الله عنها ((واصنعي جميع ما يصنعه الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت))، فإذا طهرت بعد مضي أيام النحر طافت للزيارة، ولا شيء عليها بهذا التأخير؛ لأنه كان بعذر الحيض وعليها طواف الصدر؛ لأنها طاهرة، وإن حاضت بعد ما طافت للزيارة يوم النحر فليس عليها طواف الصدر لما بينا من الرخصة الواردة للحائض في ذلك. (المبسوط للسرخسی، كتاب المناسك، باب الذي يفوته الحج، أهل الحاج صبيحة يوم النحر بحجة أخری)

(ج) كما أن واجب الدم يتأدی بالشاة في جميع المواضع إلا في موضعين من طاف للزيارة جنبا أو حائضا أو نفساء، ومن جامع بعد الوقوف بعرفة قبل الطواف فإنه بدنة كذا في الهداية وغيرها. (البحر الرائق، كتاب الحج، باب الجنايات في الحج)

لیکن اگر طواف زیارت کیا ہی نہیں اور خاتون اپنے ملک واپس آگئی تو ایسی صورت میں وہ اپنے شوہر کے لئے حلال نہیں ہو گی اور اس پر لازم ہے کہ اسی احرام سے مکہ مکرمہ جا کر طواف زیارت کرے اور اس تاخیر پر ایک دم (چھوٹا جانور یا بڑے جانور کا ایک حصہ ) دے از خود طواف زیارت کئے بغیر وہ کبھی بھی اپنے شوہر کے لئے حلال نہیں ہو گی اور اگر موت تک طواف زیارت کرنے کا موقع نہ ملے تو اپنے مال سے ایک گائے یا اونٹ کی قربانی کی وصیت کرنا واجب ہو گا۔طواف زیارت کئے بغیر حلال نہ ہونا کئی احادیث سے ثابت ہے نیز اس پر علماء کا اجماع بھی ہے۔

(قوله وحل له النساء) أي بعد الركن منه وهو أربعة أشواط بحر ولو لم يطف أصلا لا يحل له النساء وإن طال ومضت سنون بإجماع كذا في الهندية. (رد المحتار، كتاب الحج، مطلب في طواف الزيارة)

ولو حاضت قبل طواف الزيارة، ولم تطهر، وأراد الرفقة العود تهجم وتطوف حائضا وتذبح بدنة، ولكن لا نفتي بالتهجم فإن لم تطف تبقی محرمة أبدا إلی أن تطوف، وكذا الرجل لو لم يطفه.( البحرالرائق، كتاب الحج، باب الفوات في الحج)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4337 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل