لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

 امریکا میں ایک جگہ مسلمانوں کو چرچ میں جمعہ کی نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے، تو مسلمانوں کی طرف سے یہ بات کی جارہی ہے کہ ہمیں بھی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مساجد میں ان (عیسائیوں ) کو عبادت کرنے کی اجازت دینی چاہیے، اس لیے کہ مساجد تو اللہ کی ہیں۔ جیسا کہ  سورۃ الجن میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا.  اسی طرح نجران سے کچھ عیسائی وفود مدینہ آئے تو آپﷺ نے ان کو مسجد نبوی میں عبادت کرنے سے نہیں روکا اور انھوں نے مشرق کی طرف رخ کرکے اپنی عبادت ادا کی۔ دورنبویﷺ میں اہل کتاب اور مشرکین کے احکامات الگ الگ نظر آتے ہیں ۔ جیسے مشرکین کو حرم سے نکالنے کا حکم اور قتل کا حکم جبکہ اہل کتاب کو کچھ نہیں کہاگیا اور ان کو اپنے معبد خانہ قائم رکھنے کی اجازت تھی ۔ اسی طرح سورہ جن مکی سورت ہے جبکہ مدینہ میں آپ ﷺ کا عمل بظاہر اس آیت کے خلاف نظر آتا ہے جبکہ سورۃ البقرۃ کی آیت۱۱۴ کی پیروی نظر آتی ہے اس کی کیا حکمت ہے؟رہنمائی فرمائیے۔

الجواب باسم ملهم الصواب

کفار کے وہ عبادت خانے جو اس وقت ان کے قبضے میں نہیں ہیں بلکہ انہوں نے مسلمانوں کے ہاتھ فروخت کردیے اور چرچ کی حیثیت ختم کردی، ان میں مسلمانوں کےلیے نمازیں، عیدین جائز ہیں۔ اور کفار کے وہ عبادت خانے جو آباد ہیں، کفار ان میں مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں مسلمانوں كے لیے کفارکے ان عبادت خانوں میں داخل ہونا مکروہ ہے، کیونکہ ان کےعبادت خانے کفر اور شرک کے مرکز ہونے کے باعث شیطان کے گھر ہیں، اس لیے ان میں داخل ہوکر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ کفار سے ایسی مذہبی رواداری رکھنا جس سے کفر واسلام کے درمیان فرق مٹ جائے یہ جائز نہیں۔

اور وفد نجران كو عبادت کی اجازت دینے کی روایت زاد المعاد تفسیر ابن کثیر وغیرہ میں اگرچہ موجود ہے، لیکن اولاً تو اس روایت کی سند پر کلام ہے، ثانیاً اگر اس روایت کو صحیح مان بھی لیا جائے، تو یہ اجازت مطلقاًنہیں بلکہ دینی مصلحت کے پیش نظر تھی۔ اور حضورﷺ کے دور میں کفار کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دینے کا مقصد ان کو اسلام کی دعوت دینا اور ان کو اسلام کے قریب کرنا تھا، آ ج بھی اگر کہیں کوئی مصلحت ہو تو کفار کو مسجد میں آنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ لیکن باقاعدہ مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت دینے کی گنجائش نہیں۔

[تنبيه] يؤخذ من التعليل بأنه محل الشياطين كراهة الصلاة في معابد الكفار؛ لأنها مأوی الشياطين كما صرح به الشافعية. ويؤخذ مما ذكروه عندنا، ففي البحر من كتاب الدعوی عند قول الكنز: ولا يحلفون في بيت عباداتهم. وفي التتارخانية يكره للمسلم الدخول في البيعة والكنيسة، وإنما يكره من حيث إنه مجمع الشياطين لا من حيث إنه ليس له حق الدخول اهـ قال في البحر: والظاهر أنها تحريمية؛ لأنها المرادة عند إطلاقهم، وقد أفتيت بتعزير مسلم لازم الكنيسة مع اليهود. فإذا حرم الدخول فالصلاة أولی، وبه ظهر جهل من يدخلها لأجل الصلاة فيها.(رد المحتار، كتاب الصلاة، مطلب تكره الصلاة في الكنيسة)
 

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3887 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل