لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022

صحیح بخاری کے حوالے سے ایک حدیث موصول ہوئی جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’’پانچ موذی جانور ہیں جنہیں حدود حرم میں بھی مارا جاسکتا ہے: چوہا، بچھو، چیل، کوا اور کاٹ لینے والا کتا۔‘‘ اس حدیث کی وضاحت فرما دیں اور کیا حرم کے باہر بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ جزاک اللہ خیرا

الجواب باسم ملهم الصواب

 حدیث شریف میں مذکورہ پانچ جانوروں کو حالت احرام میں مارنے کی اجازت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان جانوروں کو حرم سے باہر مارنا بدرجہ اولی جائز ہے اور بعض روایات میں یہ اجازت صراحۃ محرم اور حلال دونوں کے لئے ثابت ہے۔

مسلم شریف میں ہے: قَالَ عَبْدُ اللهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَا جُنَاحَ عَلَی مَنْ قَتَلَهُنَّ، فِي قَتْلِهِنَّ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ." (مسلم، كتاب الحج، باب ما يندب للمحرم وغيره قتله من الدواب في الحل والحرم) ترجمه:’’ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا پانچ جانور ایسے ہیں کہ ان کے قتل کرنے والے پر کوئی حرج نہیں کوا ،چیل ،بچھو ،چوہا ،باؤلا کتا‘‘۔

ایک اور روایت میں ہے: عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "خَمْسٌ فَوَاسِقُ، يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَيَّةُ، وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْحِدَأَةُ." (سنن ابن ماجه، كتاب المناسك، باب ما يقتل المحرم) ترجمہ:’’ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچ فاسق جانور ہیں ان کو حرم سے باہر اور حرم میں قتل کیا جائے گا سانپ، کوا،چوہا،باؤلا کتا،چیل‘‘۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4278 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل