لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

السلام علیکم!مجھے عورت كو نكاح نامہ مىں طلاق كا حق دىنے ىا نہ دىنے كے بارے مىں علماء كرام كا نظرىہ معلوم كرنا تھا؟شکریہ

الجواب باسم ملهم الصواب

شریعتِ مطہرہ میں زوجین میں سے طلاق کا حق مرد کو حاصل ہے، عورت کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ مرد کی طرف سے اجازت ملے بغیر اپنے اوپر طلاق واقع کرے،البتہ اگر مرد كے حالات سے پورى طرح واقفىت حاصل نہ ہو یا مرد كى طرف سے بىوى پر ظلم وستم كا اندىشہ ہو یا پھر ىہ اندىشہ ہو كہ ناچاقی کی صورت میں شوہر سے طلاق حاصل كرنے كى كوئى صورت نہ ہوگى تو ممكنہ خدشات سے بچنے كے لىے بىوى اگر شوہر سے طلاق كا اختىار حاصل كرلے تو اسكى اجازت ہے، تاہم بیوی کو طلاق کا حق دینے کے بعد شوہر کا عورت کو طلاق دینے کا حق ختم نہیں ہوتا۔ عورت کے لیے طلاق کا حق لینے کی تین صورتیں ہیں، (۱) عقدِ نکاح سے پہلے لکھوایا جائے۔(۲) عقدِ نکاح میں زبان سے کہلوایا جائے۔(۳) نکاح کے بعد لکھوایا جائے۔

پہلی اور دوسری صورت کے معتبر ہونے کے لیے ایک ایک شرط ہے۔پہلی صورت کے لیے شرط یہ ہے کہ اس میں نکاح کی طرف نسبت ہو، مثلًا اگر شوہر پر کوئی شرط مقرر کرنی ہے تو وہ شرط طے کرنے کے بعدتحریر کردیا جائے کہ اگر میں فلاں دختر فلاں کے ساتھ نکاح کروں اور پھر اقرار نامے میں مذکور شرائط میں سے کسی شرط کے خلاف کروں تو میری بیوی کو اختیار ہوگا کہ وہ اسی وقت یا پھر کسی بھی وقت چاہے تو خود پر ایک بائن طلاق واقع کرکے اس نکاح سے الگ ہوجائے۔ واضح رہے کہ اگر اس میں نکاح کی طرف نسبت نہ پائی گئی تو یہ تحریر کارآمد نہ ہوگی۔دوسری صورت یعنی عین ایجاب و قبول ہی میں زبان سے یہ شرائط ذکر کی جائیں، اس کے صحیح اور معتبر ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ ایجاب عورت کی جانب سے ہو، یعنی پہلے خود عورت یا اس کا ولی عقدِ نکاح کے وقت اس طرح سے کہے کہ میں نے فلاں بنت فلاں کو اس شرط پر تمہارے نکاح میں دے دیا کہ اگر تم نے یہ کام کیا یا وہ کام کیا (جو شرائط لگانی ہیں وہ سب لگادی جائیں) تو معاملے کا اختیار میرےىا مسماۃ موصوفہ کے ہاتھ میں ہوگا کہ اسی وقت یا پھر کسی بھی وقت اپنے آپ كو ایک طلاقِ بائن دےکر کے اس نکاح سے الگ کرسکے گی۔اس کے جواب میں نکاح کرنے والا شخص یہ کہے کہ میں نے قبول کیا، اس پر عورت کو اختیار ہوگا کہ وہ جب شرائط کےخلاف دیکھے تو اپنے آپ پر ایک طلاقِ بائن واقع کرکے اپنے شوہر کے نکاح سے نکل جائے، یعنی اس طریقے سے کہہ دے کہ میں اپنے اوپر ایک طلاقِ بائن واقع کرتی ہوں۔

اور تىسرى صورت جس میں نكاح كےبعد كوئى اقرار نامہ شوہر سے لكھواىا جائے، ىہ صورت بھى صحىح اور بالكل درست ہے۔لىكن اس صورت مىں شوہر كى رضا مندى پر معاملے كا دارومدار ہے ، اب بىوى كے اختىار مىں نہىں رہا كہ شوہر كو اىسا اقرار نامہ تحرىر كرنے پر مجبور كرے ،كىونكہ نكاح مكمل ہوچكا ہے ۔(ملخص از الحیلۃ الناجزۃ ص: 38 تا43ط: مکتبہ رضی دیوبند انڈىا)

(والثاني – تعليق التفويض بالشرط، وأنه أقسام)… (القسم الثاني تعليق التفويض بترك نقد المعجل إلى وقت كذا) صورة كتابة هذا القسم جعل أمرها بيدها في تطليقة واحدة بائنة مطلقا بشرط أنه إذا مضى شهر أوله كذا وآخره كذا، ولم يؤد إليها جميع ما قبل تعجيله لها من صداقها، وهو كذا فإنها تطلق نفسها بعد ذلك متى شاءت أبدا واحدة بائنة وفوض الأمر في ذلك إليها، وأنها قبلت منه هذا الأمر في مجلس التفويض. (القسم الثالث تعليق التفويض بشرط قماره أو بشربه الخمر أو ضربه ضربا موجعا يظهر أثره على بدنها) وصورة كتابته على نحو ما بينا. . (الفتاوى الهندية (۶/ ۲۶۰)

(قوله: لم يكن له الأمر إلخ) ذكر الشارح في آخر باب الأمر باليد نكحها على أن أمرها بيدها صح. اهـ. لكن ذكر في البحر هناك أن هذا لو ابتدأت المرأة فقالت زوجت نفسي على أن أمري بيدي أطلق نفسي كلما أريد أو على أني طالق فقال: قبلت وقع الطلاق وصار الأمر بيدها، أما لو بدأ هو لا تطلق ولا يصير الأمر بيدها. اهـ. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (۳/ ۲۷)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4577 :

لرننگ پورٹل