لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022

 ایک ویڈیو موصول ہوئی جس میں ایک اہل حدیث عالم دین یہ فرمارہے ہیں کہ ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں باب باندھا ہے ’’لا صلاۃ بعد الجمعۃ ‘‘ کہ جمعہ کے بعد کوئی نفل نہیں  اسی طرح صحابہ کا عمل ثابت کیا کہ صحابہ سے نماز جمعہ سے پہلے کوئی دو رکعت پڑھ لیتے  وہ تحیۃ المسجد تھی، نماز جمعہ سے پہلے کی سنت نہیں تھی ، اسی طرح کسی صحیح حدیث سے نماز جمعہ کے بعد بھی سنت ثابت نہیں۔ اس  بارے میں رہنمائی کردیں اور یہ بھی بتا دیں کہ جمعۃ المبارک کی کل کتنی رکعات مسجد میں ادا کرنی ہیں اور گھر آکر کتنی ادا کرنی ہیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

۱۔جمعہ کی نماز سے پہلے اور بعد میں سنت پڑھنا احادیث صحیحہ کثیرہ سے ثابت ہے۔

مواردالظمآن فی زوائد ابن حبان میں علامہ ہیثمی نے باب قائم کیا’’باب الصلاة قبل الجمعة‘‘ اور حضرت ابن عمرؓ کی روایت ذکر کی:عن نافع قَالَ:كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُطِيلُ الصَّلاَةَ قَبْلَ الْجُمُعَةِ، وُيصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعتَيْنِ فِي بَيْتِهِ. وُيحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ – صلی الله عليه وسلم – كَانَ يَفْعَلُ ذلِكَ. (موارد الظمآن إلی زوائد ابن حبان) ترجمہ:’’حضرت  نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعہ سے پہلے نماز کو طویل کیا کرتے تھے اور اس کے بعد دو رکعت گھر میں پڑھا کرتے تھے اور فرماتے تھے، حضور اکرمﷺ ایسا ہی کرتے تھے‘‘۔

یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح ہے۔

معجم الاوسط میں ہے: عن علي قال: «كان رسول الله صلی الله عليه وسلم يصلي قبل الجمعة أربعا، وبعدها أربعا، يجعل التسليم في آخرهن ركعة». (المعجم الأوسط، باب الألف، من اسمه أحمد) ترجمہ:’’حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جمعے سے پہلے چار رکعات پڑھا کرتے تھے اور چار رکعات جمعے کے بعد پڑھا کرتے تھے اور ان کے آخر میں سلام پھیرتے تھے‘‘۔

امام ترمذیؒ نے باب قائم کیا ’’باب ما جاء في الصلاة قبل الجمعة وبعدها‘‘ (جمعہ سے پہلے اور جمعہ کے بعد نماز کا بیان) پھر جمعہ کے بعد دو رکعت اور چار رکعت کی روایات ذکر فرمانے کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل بیان فرمایا: وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: «أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الجُمُعَةِ أَرْبَعًا، وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا» ترجمہ:’’حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ جمعے سے پہلے اور جمعے کے بعد چار رکعات پڑھا کرتے تھے‘‘۔

  ان روایات سے معلوم ہوا کہ جمعہ سے پہلے اور بعد میں نماز پڑھنا صحابہ  کا معمول تھا اور اپنے عمل کو صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا لہذا جمعہ کی نماز سے پہلے اور بعد کی نماز کو بے اصل قرار دینا درست نہیں ۔

۲۔اسی طرح جمعہ سے پہلے پڑھی جانے والی نماز کو تحیۃ المسجد قرار دینا بھی درست نہیں كيونكه ابن ماجه ميں سند صحيح كے ساتھ ایک روایت موجود ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جمعہ سے پہلے پڑھی جانے والی نماز تحیۃ المسجد نہیں۔

روایت یہ ہے:عن أبي صالح، عن أبي هريرة وعن أبي سفيان، عن جابر، قالا: جاء سليك الغطفاني ورسول الله صلی الله عليه وسلم يخطب، فقال له النبي صلی الله عليه وسلم: «أصليت ركعتين قبل أن تجيء؟» قال: لا، قال: «فصل ركعتين وتجوز فيهما»(سنن ابن ماجه،كتاب اقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء فيمن دخل المسجد والإمام يخطب) ترجمه:’’ابو صالح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور ابو سفیان حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں سلیک غطفانی آئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے آنے سے پہلے نماز پڑھ لی تو انہوں نے عرض کیا نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو رکعات پڑھ لو اور ان کو مختصر کرو‘‘۔

اس روایت سے معلوم ہوا کہ جمعہ سے پہلے کی نماز تحیۃ المسجد نہیں اگر تحیۃ المسجد مراد ہوتی تو آنے سے پہلے نماز کا سوال نہ کیا جاتا اسی طرح امام اوزاعی نے اسی حدیث پر اپنے مذھب کی بیناد رکھی کہ جو شخص  گھر سے نماز پڑھ کر آئے وہ امام کے خطبے کے وقت نماز نہ پڑھے اور جو گھر سے نماز پڑھ کر نہ آیا ہو تو وہ مسجد میں داخل ہو کردو رکعات پڑھے اس سے بھی واضح طور پر یہ بات سمجھ آتی ہے کہ جمعے سے پہلے پڑھی جانے والی نماز سنت ہے نہ کہ تحیۃ المسجد۔

«أركعت الركعتين قبل أن تجيءَ» – بالمعنی – كما عند ابن ماجه وسنذكره. فهو مَحْمُولٌ علی السُّنةِ القَبْلية دونَ تحيةِ المسجد. (فیض الباری ،کتاب الجمعة، باب الأَذَانِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ)

قَالَ الْمَجْدُ بْنُ تَيْمِيَّةَ فِي الْأَحْكَامِ رِجَالُ إسْنَادِهِ ثِقَاتٌ وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ قَالَ وَالِدِي – رَحِمَهُ اللَّهُ – فِي شَرْحِ التِّرْمِذِيِّ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ قَالُوا فَقَوْلُهُ قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ يَدُلُّ عَلَی أَنَّ الصَّلَاةَ الْمَأْمُورَ بِهَا لَيْسَتْ تَحِيَّةَ الْمَسْجِدِ لِأَنَّ فِعْلَهَا فِي الْبَيْتِ لَا يَقُومُ مَقَامَ فِعْلِهَا فِي الْمَسْجِدِ فَتَعَيَّنَ أَنَّهَا سُنَّةُ الْجُمُعَةِ.( طرح التثريب في شرح التقريب، كتاب الصلاة، بَابُ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ)

إِنَّمَا أَمَرَهُ بِسُنَّةِ الْجُمُعَةِ الَّتِي قَبْلَهَا وَمُسْتَنَدُهُمْ قَوْلُهُ فِي قصَّة سليك عِنْد بن مَاجَهْ أَصَلَّيْتَ قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ لِأَنَّ ظَاهِرَهُ قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ مِنَ الْبَيْتِ وَلِهَذَا قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ إِنْ كَانَ صَلَّی فِي الْبَيْتِ قَبْلَ أَن يَجِيء فَلَا يُصَلِّي إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ. (فتح الباری، قَوْلُهُ بَابُ الِاسْتِمَاعِ أَيِ الْإِصْغَاءِ لِلسَّمَاعِ فَكُلُّ مُسْتَمِعٍ سَامِعٌ مِنْ غَيْرِ عَكْسٍ)

۳۔نماز جمعہ کی بارہ رکعات ہیں، پہلے چار سنت مؤکدہ پڑھی جاتی ہیں پھر جماعت کے ساتھ دو رکعت فرض نماز ادا کی جاتی ہے، فرض نماز کے بعد پھر چار رکعت سنت مؤکدہ اور پھر آخرمیں دو رکعت سنت مؤکدہ پڑھی جاتی ہے، ان بارہ رکعات کو پڑھنا ضروری ہے۔ باقی ان بارہ رکعات کے علاوہ فرض نماز سے پہلے یا بعد میں جو نماز پڑھی جاتی ہے وہ نفل ہے جس کا پڑھنا ضروری نہیں بلکہ بہتر ہے۔

عن أبي عبد الرحمن السلمي قال : كان ابن مسعود يأمرنا أن نصلي قبل الجمعة أربعا وبعدها أربعا. (المعجم الکبیر، باب العین، عبد الله بن مسعود…) ترجمہ:’’حضرت ابو عبد الرحمان سلمیٰ سےروایت ہے کہ ابن مسعودؓ ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ جمعہ سے قبل چار رکعات پڑھیں اور جمعہ کے بعد چار رکعت پڑھیں۔‘‘

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ مَنْ كَانَ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ سِتًّا. (شرح معانی الآثار، کتاب الصلاة، باب التطوع بعد الجمعة كيف هو) ترجمہ:’’حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا جو شخص جمعہ کے بعد نماز پڑھنا چاہے تو چھ رکعت پڑھے۔‘‘

عَنْ عُمَرَ قَالَ صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ وَصَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ وَالْفِطْرُ وَالْأَضْحَی رَكْعَتَانِ تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ عَلَی لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب تقصیر الصلاة في السفر) ترجمہ:’’حضرت عمر ؓنے فرمایا کہ سفر کی نماز دو رکعتیں ہیں۔ جمعہ دو رکعتیں ہیں عیدین دو رکعتیں ہیں یہ مکمل اور پوری نماز ہے اس میں کوئی قصر اور کمی نہیں محمدﷺکی زبان سے (ایسا ہی معلوم ہوا)‘‘

وأما السنة قبل الجمعة وبعدها فقد ذكر في الأصل : وأربع قبل الجمعة ، وأربع بعدها ، وكذا ذكر الكرخي ، وذكر الطحاوي عن أبي يوسف أنه قال يصلي بعدها ستا…وأما بعد الجمعة فوجه قول أبي يوسف إن فيما قلنا جمعا بين قول النبي صلی الله عليه وسلم وبين فعله فإنه روي { أنه أمر بالأربع بعد الجمعة } وروي أنه {صلی ركعتين بعد الجمعة  فجمعنا بين قوله وفعله. (بدائع الصنائع، کتاب الصلاة، فصل الصلاة المسنونة)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3560 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل