لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

 شعبان میں ہمارے اکابرین کا کیاطرز عمل ہوا کرتا تھا؟ اس حوالے سے رہنمائی فرمادیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں کثرت سے روزے رکھتے تھے۔ چنانچہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَصُومُ حَتَّی نَقُولَ: لاَ يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّی نَقُولَ: لاَ يَصُومُ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ إِلَّا رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ(بخاري، كتاب الصوم، باب صوم شعبان) ترجمہ:’’یعنی میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی مہینے کے تمام روزے رکھے ہوں اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان سے زیادہ روزے کسی مہینے میں رکھتے ہوئےنہیں دیکھا‘‘۔
 یعنی آپ ﷺ شعبان میں دیگر تمام مہینوں سے زیادہ روزے رکھتے تھے۔
 ایک اور حدیث میں ہے:كَانَ أَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ: شَعْبَانُ، ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ(سنن ابي داود، كتاب الصوم، باب في صوم شعبان)ترجمہ:’’یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام مہینوں سے زیادہ یہ بات پسند تھی کہ شعبان کے روزے رکھتے رکھتے (ان روزوں کو) رمضان سے ملادیں‘‘۔
 اسی طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان اور رمضان کے سوا لگاتار دومہینے روزے رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ (ترمذی شریف۱/۱۵۵) یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے پورے مہینے کے ساتھ ساتھ شعبان کے بھی تقریباً پورے مہینے کے روزے رکھتے تھے اور بہت کم دن ناغہ فرماتے تھے۔
 عمدة القاری میں ماہِ شعبان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ نفلی روزے رکھنے کی بہت سی حکمتیں بیان کی گئی ہیں مثلا ان میں سے ایک حکمت یہ بھی کہ یہ آپ ﷺ کی طرف سے رمضان کی عظمت کے پیش خیمہ کے طور پر ہوتا تھا۔چناں چہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاگیا کہ:أَيُّ الصَّوْمِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ فَقَالَ: شَعْبَانُ لِتَعْظِيمِ رَمَضَانَ (سنن الترمذي، كتاب الزكاة، باب ما جاء في فضل الصدقة) ترجمہ:’’رمضان المبارک کے بعد افضل روزہ کون سا ہے؟ ارشاد فرمایا: رمضان کی تعظیم کے لیے شعبان کا روزہ‘‘۔
 ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس ماہ میں لوگوں کے اعمال اللہ رب العزت کی طرف اٹھائے جاتے ہیں۔ چنانچہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شَعْبَانُ بَيْنَ رَجَبٍ وَشُهِرِ رَمَضَانَ، يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ، يَرْفَعُ فِيهِ أَعْمَالَ الْعِبَادِ، فَأُحِبُّ أَنْ لَا يُرْفَعَ عَمَلِي إِلَّا وَأَنَا صَائِمٌ(شعب الإيمان للبيهقي، كتاب الصيام، باب صوم شعبان)ترجمہ:’’شعبان کا مہینہ رجب اور رمضان کے درمیان کا مہینہ ہے، لوگ اس کی فضیلت سے غافل ہیں، حالاں کہ اس مہینے میں بندوں کے اعمال پروردگارِ عالم کی جانب اٹھائے جاتے ہیں، لہٰذا میں اس بات کو پسند کرتاہوں کہ میرا عمل بارگاہِ الٰہی میں اس حال میں پیش ہو کہ میں روزہ دار ہوں‘‘۔
 علاوہ ازیں ایک سبب یہ بھی ہے جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی اس روایت میں ہے:كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَرُبَّمَا أَخَّرَ ذَلِكَ حَتَّی يَجْتَمِعَ عَلَيْهِ صَوْمُ السَّنَةِ، وَرُبَّمَا أَخَّرَهُ حَتَّی يَصُومَ شَعْبَانَ(المعجم الأوسط، باب الألف، من اسمه أحمد)ترجمہ:’’رسول اللہﷺ ہر ماہ تین یوم کے روزے رکھا کرتے تھے، تو بعض اوقات انہیں اس قدر مؤخر کر لیا کرتے تھے کہ پورے سال کے روزے جمع ہو جاتے تھے، چنانچہ آپ ﷺ  مکمل شعبان کے روزے رکھ لیا کرتے تھے‘‘۔
 لیکن اس کے ساتھ ساتھ شعبان کے نصف ثانی میں روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اِذَا بَقِیَ نِصْفٌ مِنْ شَعْبَانَ فَلاَ تَصُوْمُوْا(سنن الترمذي، أبواب الصوم، باب ما جاء في كراهية الصوم في النصف الباقي…)ترجمہ:’’جب آدھا شعبان باقی رہ جائے تو روزے مت رکھو‘‘۔
  علماء نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اس حدیث شریف میں ممانعت ان لوگوں کے لیے ہے جن کو روزہ کمزور کرتا ہے، ایسے لوگوں کو اس حدیث شریف میں یہ حکم دیاگیا کہ نصف شعبان کے بعد روزے مت رکھو؛ بلکہ کھاؤ پیئو اور طاقت حاصل کرو؛ تاکہ رمضان المبارک کے روزے قوت کے ساتھ رکھ سکو اور دیگر عبادات نشاط کے ساتھ انجام دے سکو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چوں کہ طاقت ور تھے، روزوں کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کمزوری لاحق نہیں ہوتی تھی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نصف شعبان کے بعد بھی روزے رکھتے تھے اورامت میں سے جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہیں اور روزے ان کو کمزور نہیں کرتے وہ بھی نصف شعبان کے بعد روزے رکھ سکتے ہیں، ممانعت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جن کو کمزوری لاحق ہوتی ہے۔
 ماہِ شعبان کے روزے صحیح روایات سے ثابت ہیں، جیساکہ تفصیل گزرچکی، لہٰذا شعبان کے کم از کم پہلے نصف حصے میں روزے رکھنے چاہئیں۔اسی ماہ کی پندرہویں شب ”شبِ برأت“ کہلاتی ہے۔ احادیث شریفہ میں شبِ براء ت کی بہت زیادہ فضیلت اور اہمیت بیان کی گئی ہے، جن میں سے چند حدیثیں ذیل میں درج ہیں۔
 سنن الترمذی میں ہے:عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَخَرَجْتُ، فَإِذَا هُوَ بِالبَقِيعِ، فَقَالَ: «أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ»(سنن الترمذي، أبواب الصوم، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان)ترجمہ:’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: میں نے ایک رات نبی کریم ﷺ کو اپنے بستر پر نہ پایا، تو میں آپ ﷺ کی تلاش میں نکلی، تو میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ(قبرستان) بقیع  میں ہیں، آپ ﷺ نے (مجھے دیکھ کر) ارشاد فرمایا: کیا تو یہ اندیشہ رکھتی ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تیرے ساتھ بے انصافی کرے گا؟ (یعنی تیری باری میں کسی دوسری بیوی کے پاس چلا جائے گا؟) میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے یہ خیال ہوا کہ آپ اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس تشریف لے گئے ہوں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب میں آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور قبیلہٴ بنوکلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں‘‘۔
 سنن ابن ماجہ میں ہے:عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا نَهَارَهَا فَإِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَی سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهُ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ أَلَا مُبْتَلًی فَأُعَافِيَهُ أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا حَتَّی يَطْلُعَ الْفَجْرُ(سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان)ترجمہ:’’ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکا ارشاد ہے: جب نصف شعبان کی رات آجائے تو تم اس رات میں قیام کیا کرو اور اس کے دن (پندرہویں تاریخ) کا روزہ رکھا کرو، اس لیے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ سورج غروب ہونے سے طلوعِ فجر تک قریب کے آسمان پر نزول فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ کیا ہے کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا جس کی میں مغفرت کروں؟، کیا ہے کوئی مجھ سے رزق کا طالب کہ میں اس کو رزق عطا کروں؟ کیا ہے کوئی کسی مصیبت یا بیماری میں مبتلا کہ میں اس کو عافیت عطا کروں؟ کیا ہے کوئی ایسا؟ کیا ہے کوئی ایسا؟ اللہ تعالیٰ برابر یہ آواز دیتے رہتے ہیں؛ یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجاتا ہے‘‘۔
 عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " خَمْسُ لَيَالٍ لَا يُرَدُّ فِيهِنَّ الدُّعَاءُ: لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ، وَأَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبَ، وَلَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَلَيْلَةُ الْعِيدِ وَلَيْلَةُ النَّحْرِ(شعب الإيمان للبيهقي، كتاب الصيام، باب التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر…)ترجمہ:’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: پانچ راتوں میں دعا رد نہیں ہوتی (ضرور قبول ہوتی ہے) جمعہ کی رات، ماہِ رجب کی پہلی رات، نصف شعبان کی رات، عیدین کی راتیں‘‘۔
 ان احادیث شریفہ سے ماہ شعبان کی عبادت یعنی روزے اور خوب دعائیں اور شب برات کی فضیلت معلوم ہو گئی، چنانچہ اس ماہ اور خصوصا شب برات میں نفلی عبادات کا خوب اہتمام کرنا چاہیے۔ اکابرین کا طرز عمل رسول اللہ ﷺ کی کامل اتباع ہے۔ لہذا اسی کو اکابرین کا طرز عمل بھی سمجھنا چاہیے۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4691 :

لرننگ پورٹل