لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

میرے دوست کی پھوپھو کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے نہ والدین زندہ ہیں اور نہ اولاد۔ پھوپھو کو ملاکر کل تین بہنیں اور دو بھائی تھے، جن میں سے ایک بہن زندہ ہے باقی سب کا انتقال ہوچکا ہے، ایک مرحومہ بہن کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں اور ایک مرحوم بھائی کا ایک بیٹا ہے، جبکہ دوسرے مرحوم بھائی کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کل اثاثے کی حق دار بہن ہوگی یا باقی مرحوم بہن بھائیوں کی اولاد میں بھی تقسیم ہوگی؟

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں مرحومہ نے بوقت انتقال منقولہ، غیر منقولہ جائیداد، نقدی، سونا، چاندی اور چھوٹا بڑا سامان حتی کہ سوئی دھاگہ، جو کچھ اپنی ملک میں چھوڑا ہے، سب مرحومہ کا ترکہ ہے۔ اس میں سے پہلے  تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اس کو ادا کرنے بعد اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو ایک تہائی مال میں نافذ کرنے کے بعد کل مال کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ مرحومہ کی حیات بہن در شہوار کو اور ایک حصہ مرحومہ کے بھتیجے کو ملے گا باقی مرحومہ کے بھانجے بھانجیاں مرحومہ کے ترکے سے محروم رہیں گے۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4312 :

لرننگ پورٹل