لاگ ان
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
لاگ ان
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022

اس بارے میں علماء کرام کیا فرماتے ہیں کہ پاکستان کے تقریباً ہر سرکاری ادارے مثلاً بجلی، گیس، انکم و سیلز ٹیکس، کسٹم، ہسپتال (ڈاکٹرز) ، پاسپورٹ، شناختی کارڈ کے اکثر ملازمین الا ماشاءالله سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ اسی ادارے سے وابستہ سائلین کے لئے ایجنٹ کا کام کرتے ہیں یا پھر شام کے اوقات میں اسی ادارے سے متعلق مسائل کے حل کےلیے خدمات دینے کےلیے اپنا دفتر بھی چلا رہے ہوتے ہیں اور ان خدمات کے عوض سائلین سے تھوڑی یا زیادہ رقم بھی وصول کرتے ہیں اور اپنے ادارے سے بھی مکمل تنخواہ حاصل کرتے رہتے ہیں جبکہ پاکستانی قانون کے مطابق ملازمت میں رہتے ہوئے ادارے کا ملازم اپنی آمدنی بڑھانے کےلیے دوسرا کوئی کام نہیں کر سکتا تو پھر اس طرح سے حاصل ہونے والی آمدنی کے بارے میں کیا حکم شرعی ہے؟ اگر ان کاموں سے حاصل رقم صحیح نہیں اور اب کوئی اپنی اصلاح کر لے تو اس کےلیے کیا ہدایات ہیں؟ گزارش ہے مدلل اور مفصل جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

سوال میں ذکر کردہ صورتیں اور ان کا حکم درج ذیل ہے:

۱۔ایک صورت یہ ہے کہ کسی ادارے کا ملازم اوقات ملازمت کے دوران سائلین کے کام سر انجام دے کر ان سے کچھ نہ کچھ رقم ذاتی طور پر وصول کرتا ہے۔ خواہ وہ کام ادارے سے متعلق ہو یا متعلق نہ ہو، بہر حال یہ معاملہ دونوں صورتوں میں خیانت و رشوت یا محض خیانت کی وجہ سے جائز نہیں۔

۲۔ایک صورت یہ ہے کہ ادارے کا ملازم ملازمت کے متعین اوقات کے علاوہ کسی دوسرے  وقت میں سائلین کے لیے ایسا کام کرتا ہے جو اسی ادارے سے متعلق ہو اور وہاں اسی کو تفویض کیا گیا ہو، اور اس کام کے بدلے میں سائلین سے اجرت لیتا ہو تو یہ معاملہ بھی رشوت ہونے کی بناء پر جائز نہیں۔ مذکورہ دونوں صورتوں میں حاصل شدہ آمدنی حرام ہے، حرام آمدنی کا مصرف یہ ہے کہ اسے اصل مالک کی طرف لوٹانا واجب ہے۔ اگر اصل مالک کا علم نہ ہو تو اس آمدنی کو بغیر نیت ثواب کسی مسکین یا فقیر پر صدقہ کردے۔

۳۔ایک صورت یہ ہے کہ ملازم اپنے اوقات ملازمت کے علاوہ سائلین کے لیے ایسی خدمات سر انجام دیتا ہو جو ادارے میں اسے تفویض نہ کی گئی ہوں، اور ان کاموں کے بدلے سائلین سے کچھ اجرت لیتا ہو تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر اس کی خدمت بنیادی طور پر جائز کاموں میں ہو اور جائز طریقے سے ہو تو یہ کام بھی جائز اور اس کے عوض اجرت بھی حلال ہوگی، ورنہ کام اور اجرت دونوں ناجائز ہوں گے۔اس تیسری صورت میں تفصیل یہ ہے کہ اگر مذکورہ ملازم کے ادارے میں دوران ملازمت آمدنی میں اضافے کے لیے کسی اور ذریعہ آمدن کا حصول غیر قانونی ہے اور اس شخص نے کسی ایسے معاہدے یا اصول پر دستخط بھی کیے ہوں تو اسے چاہیے کہ حتی الامکان اس معاہدے کی پاسداری کرے اور اس کی خلاف ورزی کرکے اپنی عزت کو خطرے میں نہ ڈالے۔ لیکن اگر مذکورہ معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو جائے تو اس پر واجب ہے کہ قسم کا کفارہ ادا کرے تاہم اس صورت میں اس کی متعلقہ آمدنی حرام نہیں ہو گی۔ 

(الف) لكنه لو استؤجر أحد هؤلاء علی أن يعمل للمستأجر إلی وقت معين يكون أجيرا خاصا في مدة ذلك الوقت. وكذلك لو استؤجر حمال، أو ذو كروسة أو ذو زورق إلی محل معين بشرط أن يكون مخصوصا بالمستأجر وأن لا يعمل لغيره فإنه أجير خاص إلی أن يصل إلی ذلك المحل. . . وعلی هذا فهذا التعريف يشمل الأجير الخاص بقسميه المذكورين في المادة (423) ويؤخذ من هذا التعريف أن الأجير الخاص لا يمكنه أن يعمل عملا لغير المستأجر قبل انقضاء المدة التي استؤجر فيها؛ لأن الانتفاع بعمله في تلك المدة للمستأجر ولا يجوز تمليك المنافع العائدة إليه لغيره. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، الجزء الاول، المادة:422)

(ب) قال ابن عابدين في تعريف الرشوة: الثالث أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام علی الآخذ فقط. (رد المحتار، كتاب القضاء، مطلب في الكلام علی الرشوة والهدية)

(ج) لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولی بهم ويردونها علی أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبه. (رد المحتار، كتاب الحظروالاباحة، فصل في البيع)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4304 :

لرننگ پورٹل