لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022

ماہ رجب کے روزے کی فضیلت کے حوالے سے درج ذیل  احادیث کے بارے میں بتائیے کیا یہ درست ہیں؟

۱۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: جس نے ماہ حرام (رجب) کے تین روزے رکھے اس کےلیے نو سو سال کی عبادت کا ثواب لکھا جائے گا۔ (اللألی المصنوعۃ للسیوطی)

۲۔ فرمان مصطفی ﷺ ہے کہ رجب کے پہلے دن کا روزہ تین سال کا کفارہ ہے اور رجب کے دوسرے دن کا روزہ دو سال کا کفارہ ہے اور تیسرے دن کا روزہ ایک سال کا کفارہ ہے اور پھر ہر دن کا روزہ ایک ماہ کا کفارہ ہے۔ (الجامع الصغیر للسیوطی)

الجواب باسم ملهم الصواب

رجب کے روزوں کی فضیلت پر مشتمل مذکورہ احادیث انتہائی ضعیف ہیں  اور ان روایات میں نکارت ہے۔ اسی لیے شراح حدیث  فرماتے ہیں کہ رمضان کے ساتھ شوال کے چھ روزے رکھنے کا ثواب حضورﷺ نے پورے سال کے روزوں کے ثواب کے برابر قرار دیا اور یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ فرض کا ثواب نفل سے زیادہ ہے تو جب رمضان اور اس کے ساتھ شوال کے روزوں کا ثواب ایک سال کے برابر ہے تو کسی اور مہینے کے ایک دن کا روزہ کیسے تین سال کے برابر ہوگا اس طرح اس حدیث میں نکارت آجاتی ہے۔

ولا يخفی ما ثبت من أن من صام رمضان وأتبعه بستّ من شوال كصيام السنة وقد تقرر أن فضيلة الفريضة تضعف علی فريضة النفل، فهذه الفضائل تدل علی نكارة الحديث. (التنوير شرح الجامع الصغير،کتاب الحدود، حرف الصاد)

اسی طرح شراح حدیث نے یہ بھی بیان فرمایا کہ رجب کے روزے کے بارے میں کسی صحیح حدیث سے نہ تو فضیلت ثابت ہے اور نہ ہی ممانعت۔

قال ابن الصلاح وغيره: لم يثبت في صوم رجب نهي ولا ندب. (فيض القدير، حرف الصاد)

لہذارجب کے روزوں کی فضیلت بیان کرنا اور اس کو مسنون قرار دینا درست نہیں۔ البتہ اگر کوئی سنت سمجھے بغیر اس مہینے میں روزے رکھ لے تو منع نہیں۔جیسا کہ ہر مہینے تیرہ، چودہ ،پندرہ کا روزہ رکھنا، اسی طر ح ہر پیر اور جمعرات کا روزہ سنت ہے تو وہ اس مہینے میں بھی رکھ لیے جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ البتہ خاص رجب کے روزے کی فضیلت کا اعتقاد درست نہیں‘‘۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4355 :

لرننگ پورٹل