لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

 ایک شخص کراچی میں ہے اور وہ بہت مالدار ہے۔ یعنی اس کے کراچی کے بینکوں میں کئی کروڑ روپے ہیں جس پر ہر سال زکوۃ ہوتی ہے۔ ایسا شخص سفر کررہا ہے بیرون شہر، اس کے پاس اپنا مال ختم ہو گیا مگر اس کے پاس اے۔ٹی۔ایم کارڈ ہے جس سے وہ اپنے پیسے نکلوا سکتا ہے اور اس کی رسائی اس دوسرے شہر میں بینک اور اے۔ٹی۔ایم تک ہے جہاں سے وہ اپنے پیسے باآسانی نکال سکتا ہے۔ کیا اس کے لیے زکوۃ لینا اور استعمال کرنا درست ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

وہ مالدار شخص جو حالت سفر میں ہو اور سفر میں زاد راہ ختم ہوجائے اور وطن میں اس کے پاس موجود مال تک رسائی فی الحال کسی طرح ممکن نہ ہو، تو اس صورت میں اس کے لئے دوسروں سے زکوٰۃ لینا جائز ہے۔لیکن بہتر صورت یہ ہے کہ وہ کسی سے قرض لے لے اگر قرض لینا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ زکوٰۃ لے سکتا ہے۔ البتہ صورت مسئولہ میں چونکہ مذکورہ شخص کے پاس اے ٹی ایم کارڈ موجود ہے اور اس سے باآسانی فائدہ اٹھانا بھی ممکن ہے، تو ایسے شخص کے لیے زکوٰۃ لینا جائز نہیں۔

(ومنها ابن السبيل) ، وهو الغريب المنقطع عن ماله كذا في البدائع. جاز الأخذ من الزكاة قدر حاجته، ولم يحل له أن يأخذ أكثر من حاجته وألحق به كل من هو غائب عن ماله، وإن كان في بلده؛ لأن الحاجة هي المعتبرة ثم لا يلزمه أن يتصدق بما فضل في يده عند قدرته علی ماله كالفقير إذا استغنی كذا في التبيين. والاستقراض لابن السبيل خير من قبول الصدقة كذا في الظهيرية.(الفتاوی الهندية،كتاب الزكاة، الباب السابع فی المصارف)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4282 :

لرننگ پورٹل