لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

ایک مسلمان کے ایک قادیانی کے ساتھ تعلقات تھے اور پراپرٹی کا کاروبار بھی مشترکہ تھا حالانکہ اس شخص کو یہ معلوم نہیں تھا کہ قادیانیوں کے ساتھ تعلقات رکھنا جائز نہیں۔اور اس قادیانی نے مسلمان کو دھوکہ دےکر بہت زیادہ رقم لے لی، بعد میں اس مسلمان کو یہ معلوم ہوگیا کہ قادیانیوں کے ساتھ تعلقات اور لین دین جائز نہیں ۔ اب یہ مسلمان ایک فیکٹری لگانا چاہتا ہے جس میں وہ قادیانی بھی ان کو رقم دینے کو تیار ہے اور یہ مسلمان چاہتا ہے کہ اس قادیانی سے کسی طریقے سے اپنی رقم وصول کر لے، تو کیا اس کے ساتھ صرف اس غرض سے لین دین کرنا تاکہ اپنی رقم اس سے کسی طریقے سے وصول کر لیں (اور اور رقم بھی بہت زیادہ ہے) یہ جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب باسم ملهم الصواب

اگر کسی قادیانی پر مسلمان کا قرض ہو تو مسلمان کے لیے اس سے اپنی رقم وصول کرنا جائز ہے، یہ ممنوعہ لین دین میں داخل نہیں۔ لہذا صورت مسئولہ میں قادیانی سے اپنا حق وصول کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔

(الف) مطلب يعذر بالعمل بمذهب الغير عند الضرورة (قوله وأطلق الشافعي أخذ خلاف الجنس) أي من النقود أو العروض؛ لأن النقود يجوز أخذها عندنا على ما قررناه آنفا. قال القهستاني: وفيه إيماء إلى أن له أن يأخذ من خلاف جنسه عند المجانسة في المالية، وهذا أوسع فيجوز الأخذ به وإن لم يكن مذهبنا، فإن الإنسان يعذر في العمل به عند الضرورة كما في الزاهدي. اهـ. قلت: وهذا ما قالوا إنه لا مستند له، لكن رأيت في شرح نظم الكنز للمقدسي من كتاب الحجر. قال: ونقل جد والدي لأمه الجمال الأشقر في شرحه للقدوري أن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق. والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديارنا لمداومتهم للعقوق (رد المحتار، كتاب السرقة)

(ب) وقال أبو حنيفة: له أن يأخذ بقدر حقه إن كان نقدا أو من جنس حقه، وإن كان المال عرضا لم يجز، لأن أخذ العوض عن حقه اعتياض، ولا تجوز المعاوضة إلا بالتراضي، لكن المفتى به عند الحنفية جواز الأخذ من خلاف الجنس. (الموسوعة الفقهية الكوتية، استيفاء الحق من مال الغير بصفة عامة)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4360 :

لرننگ پورٹل