لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022

سورۃ النساء کی ایک آیت میں ہے کہ اگر بیوی بات نہ مانے تو اس پر ہاتھ اٹھایا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سی باتیں اور شرائط ہیں جن میں عورت پر ہاتھ اٹھایا جاسکتا ہے؟ کیا چھوٹی چھوٹی نافرمانیوں پر بھی عورت پر ہاتھ اٹھایا جاسکتا ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ

الجواب باسم ملهم الصواب

اشریعت مطہرہ نے میاں اور بیوی دونوں کے حقوق بیان کر دیے ہیں، دونوں کو چاہیے کہ ان حقوق کی رعایت کے ساتھ زندگی گذرایں، اور اگر کسی ایک طرف سے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہو تو دوسرا فریق عفو و در گذر سے کام لے تو دونوں میں جھگڑے کی نوبت ہی نہیں آئے گی، اگر بیوی میں کوئی ایسی بات پائی جائے کہ زبانی تنبیہ سے اس کی اصلاح نہ ہو سکے تو شریعت نے بعض مخصوص صورتوں میں مثلا عورت کا شوہر کے لیے مطلوبہ زینت اختیار نہ کرنا، غسل جنابت نہ کرنا، یا شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلنا وغیرہ میں شوہر کو مارنے کی اجازت دی ہے، البتہ مار پیٹ میں حدود شرعیہ کی رعایت ضروری ہے کہ ایسی سخت پٹائی نہ ہو کہ ہڈی ٹوٹے یا گوشت پھٹ جائے، اسی طرح چہرے پر مارنے کی بھی ممانعت  ہے۔ان حدود سے تجاوز کی صورت میں عورت اپنے سرپرستوں سے رجوع کر سکتی ہے، لیکن صبر و تحمل کے ذریعہ شوہر کو رام کرنے کی کوشش کرے یہ زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔

يجب في ضرب الزوجة للنشوز أو لغيره: أن يكون الضرب غير مبرح، ولا مدم، وأن يتوقى الوجه، والأماكن المخيفة، ولا يضربها إلا لما يتعلق بحقه كالنشوز، فلا يضربها لحق الله عند جمهور الفقهاء، كترك الصلاة. (الموسوعة الفقهية الكويتية، حرف الضاد، ضرب الزوجة)

قال الحصكفي في كتاب الحدود: (ويعزر المولى عبده والزوج زوجته) ولو صغيرة لما سيجيء (على تركها الزينة) الشرعية مع قدرتها عليها (و) تركها (غسل الجنابة، و) على (الخروج من المنزل) لو بغير حق (وترك الإجابة إلى الفراش) لو طاهرة من نحو حيض. ويلحق بذلك ما لو ضربت ولدها الصغير عند بكائه أو ضربت جاريته غيرة ولا تتعظ بوعظه، أو شتمته ولو بنحو يا حمار، أو ادعت عليه، أو مزقت ثيابه، أو كلمته ليسمعها أجنبي، أو كشفت وجهها لغير محرم، أو كلمته أو شتمته أو أعطت ما لم تجر العادة به بلا إذنه والضابط كل معصية لا حد فيها فللزوج والمولى التعزير، وليس منه ما لو طلبت نفقتها أو كسوتها وألحت لأن لصاحب الحق مقالا بحر، و (لا على ترك الصلاة) لأن المنفعة لا تعود عليه بل إليها، كذا اعتمده المصنف تبعا للدرر على خلاف ما في الكنز والملتقى واستظهره في حظر المجتبى. وقال في كتاب الحظر والإباحة: وله ضرب زوجته على ترك الصلاة على الأظهر. (الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الحدود، باب التعزير) 

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4322 :

لرننگ پورٹل