لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

 بخاری شریف کی پہلی حدیث ہے ’’اِنَّمَا الاَعمالُ بِالنِّیَّاتِ‘‘ کیا یہ حدیث مبارکہ امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک جو صحیح حدیث کی شرائط ہیں ان شرائط پر پورا اترتی ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں جن شرائط کا لحاظ رکھا ہے وہ یہ ہیں کہ حدیث متصل ہو، اس کے سارے راوی ثقہ ہوں، حدیث ہر قسم کی علت سے خالی ہو، حدیث شاذ نہ ہو، روایت کرنے والے کا اپنے شیخ سے لقاء ثابت ہو یعنی امام بخاری رحمہ اللہ نے حدیث کی صحت کے لیے کم از کم ایک بار لقاء ضروری قرار دیا صرف معاصرت کو کافی نہیں سمجھا۔ یہ بنیادی شرائط ہیں، البتہ ایک شرط جس کا امام حاکم نے دعوی کیا ہے اور اس کی وجہ سے امام بخاری کی ذکر کردہ کئی روایات پر شبہ  پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ امام بخاری کی شرط کے مطابق ہیں یا نہیں وہ یہ کہ امام حاكم نے فرمايا كہ امام بخاری و مسلم نے اپنی صحیح میں صرف ان رویات کو لیا ہے جو مشہور صحابی رسول اللہ ﷺ سے روایت کرٰیں اور ان سے دو یا دو سے زیادہ ثقہ راوی  ، پھر مشہور تابعی سے کم از کم دو ثقہ راوی بیان کریں یعنی کوئی راوی اپنی روایت میں متفرد نہ ہو جبکہ امام بخاری کی ذکر کردہ پہلی حدیث اور اس کے علاوہ بہت سی احادیث میں یہ شرط نہیں پائی جاتی کیونکہ اس حدیث میں بہت سے لوگ متفرد ہیں کیونکہ اس حدیث کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے صرف علقمہ کے طریق سے بیان کیا جاتا ہے اور علقمہ سے صرف محمد بن ابراہیم کے طریق سے بیان کیا جاتا ہے اور محمد بن ابراہیم سے صرف یحی بن سعید کے طریق سے بیان کیا جاتا ہے، اس کے بعد یہ حدیث خبر مشہور کے درجہ کی ہو جاتی ہے، لیکن یحی بن سعید سے اوپر سب راوی متفرد ہیں اس لیے یہ روایت غریب ہےاگرچہ اس روایت کے کئی معلول طرق اور بھی ہیں جن کو دار قطنی نے نقل کیا ہے تاہم محدثین کا کہنا ہے کہ امام بخاری کا عمل امام حاکم کے بیان کے خلاف ہے اس کو امام بخاری کی شرط قرار دینا درست نہیں بلکہ اصل شرط صرف یہ ہے کہ سند متصل ہو ،ثقہ ثقہ سے روایت کرے، روایت شاذ اور معلول نہ ہو اور یہ تمام شرائط حدیث انما الاعمال بالنیات میں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے یہ روایت صحیح بھی ہے اور امام بخاری کی شرط کے مطابق بھی۔

(الف) أن يكون الحديث متصلًا، وأن يكون رواته عدولًا، وأن يخلو الحديث من العلة، أي: ليس فيه علة قادحة، ولا شاذًا بأن يخالف راويه الثقة من هو أوثق منه، أو أكثر عددًا منه وأشد ضبطًا، وقد أوضح البخاري منهجه في الاتصال بدقة متناهية لا نجدها عند غيره، إذ اشترط في المعنعن شرطين: وهما اللقاء والمعاصرة وفي ذلك يقول: "الاتصال عندهم أن يعبر كل من الرواة في روايته عن شيخه، بصيغة صريحة في السماع منه، كسمعت وحدثني وأخبرني، أو ظاهرة كعن وأن فلانًا قال"، أي أن يكون الراوي قد ثبت له لقاء من حدث عنه ولو مرة واحدة، مع اشتراط أن يكون ثقة، فإذا ثبت عنه ذلك حملت عنه عنعنته علی السماع، وعلة ذلك أنه لم يثبت لقاؤه له، وإنما كان معاصرًا له، احتمل أن تكون روايته عن طريق الإرسال، وأما إذا حدث عن شيخه بما لم يسمعه منه كان مدلسًا، وبذلك كان شرط البخاري في الاتصال أقوی وأتقن عنده من غيره، وخاصة مسلم وابن حنبل وغيرهما الذين اكتفوا بالمعاصرة دون اللقاء. (التوضيح لشرح الجامع الصحيح، مقدمة التحقيق، منهج البخاري في رواية الصحيح وشروطه فيه)

(ب) ادعی الحاكم في "مدخله إلی الإكليل" أن شرط البخاري ومسلم في صحيحيهما أن لا يذكرا إلا ما رواه صحابي مشهور عن النبي – صلی الله عليه وسلم -، له راويان ثقتان فأكثر، ثم يرويه عنه تابعي مشهور بالرواية عن الصحابة له أيضًا راويان ثقتان فأكثر، ثم يرويه عنه مِن أتباع الأتباع الحافظ المتقن المشهور عَلَی ذَلِكَ الشرط. ثم كذلك قَالَ: والأحاديث المروية بهذِه الشريطة لا يبلغ عدها عشرة آلاف حديث وهذا الشرط الذي ذكره عملهما يخالفه، فقد أخرجا في "الصحيحين" حديث عمر بن الخطاب: "إنما الأعمال بالنيات" ولا يصح إلا فردا كما سيأتي… والظاهر أن شرطهما اتصال الإسناد بنقل الثقة عن الثقة من مبتداه إلی منتهاه، من غير شذوذ ولا علة. (التوضيح لشرح الجامع الصحيح، مقدمة المصنف)

(ج) قوله: (عن سعيد بن المسيب عن أبيه)، وسعيد هذا لا يشهد لصحابته غير ابنه، ومع ذلك هو من رواة البخاري، فما اشتهر أن شرط البخاري أنه لا يخرج في صحيحه إلا ما يرويه اثنان عن اثنين، بعيد عن الصواب. (فيض الباری، کتاب المغازی، باب غزوة الحديبية)

(د) ثم إن هذا الحديث متفق علی صحته أخرجه الأئمة المشهورون إلا الموطأ ووهم من زعم أنه في الموطأ مغترا بتخريج الشيخين له والنسائي من طريق مالك وقال أبو جعفر الطبري قد يكون هذا الحديث علی طريقة بعض الناس مردودا لكونه فردا لأنه لا يروی عن عمر إلا من رواية علقمة ولا عن علقمة إلا من رواية محمد بن إبراهيم ولا عن محمد بن إبراهيم إلا من رواية يحيی بن سعيد وهو كما قال فإنه إنما اشتهر عن يحيی بن سعيد وتفرد به من فوقه وبذلك جزم الترمذي والنسائي والبزار وبن السكن وحمزة بن محمد الكناني وأطلق الخطابي نفي الخلاف بين أهل الحديث في أنه لا يعرف إلا بهذا الإسناد وهو كما قال لكن بقيدين أحدهما الصحة لأنه ورد من طرق معلولة ذكرها الدارقطني وأبو القاسم بن منده وغيرهما ثانيهما السياق لأنه ورد في معناه عدة أحاديث صحت في مطلق تتبعت طرق غيره فزادت علی ما نقل عمن تقدم كما سيأتي مثال لذلك في الكلام علی حديث بن عمر في غسل الجمعة إن شاء الله تعالی. (فتح الباري، اول الكتاب)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4132 :

لرننگ پورٹل