لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

سوال:السلام علیکم !

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بابت کہ مویشی منڈی میں یہ طریقہ رائج ہے کہ خریدار منڈی کے کسی معروف ڈیلر کو ساتھ لے کر اپنے لیے جانور پسند کرتا ہے اور مالک کے ساتھ ایک قیمت طے کرتا ہے ۔ خریدار کی جگہ ، ڈیلر رقم ادا کرتا ہے ۔اب ڈیلر ، خریدار سے یہ رقم قسطوں میں وصول کرے گا اور ادا شدہ رقم پر ایک طے شدہ اضافی رقم وصول کرے گا ۔ یہ تفصیلات پہلے سے طے شدہ ہوتی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ معاملہ جائز ہے یا ناجائز اور اگر ناجائز ہے تو کیا سودی ہے یا غیر سودی؟ اگر یہ ناجائز ہے تو اسے جائز کرنے کی غرض سے مندرجہ ذیل صورتوں میں سے کوئی اختیار کی جائے تو ان صورتوں کے بارے میں شرعی راہنمائی فرمائیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

اگر خریدار ڈیلر کے ساتھ منڈی میں جا کر جانور پسند کرے اور ڈیلر سے کہے کہ تم یہ جانور اتنے تک خرید لو میں تم سے اتنے اضافے میں قسطوں کے ساتھ خرید لوں گا۔ یا پھر ڈیلر سے خریدنے کا وعدہ تو کر لے لیکن قیمت طے نہ کرے بلکہ مالک اور ڈیلر کے درمیان خریداری مکمل ہو جانے کے بعد ڈیلر سے سودا کیا جائے جو ظاہر ہے رقم کے اضافے اور قسطوں میں ادائیگی کے ساتھ ہوگا۔ مزید یہ کہ اس طرح کی خرید اری کے جائز ہونے کی کوئی تیسری صورت ممکن ہو تو اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

صورت مسئولہ میں خریدار جب اپنے لئے جانور خریدتا ہے اور ڈیلر کے ذریعہ رقم کی ادائیگی کرواتا ہے تو درحقیقت ڈیلر کی رقم خریدار کے ذمے قرض ہوتی ہے اور پھر ڈیلر خریدار سے اپنی ادا کی ہوئی رقم زیادتی کے ساتھ وصول کرتا ہے تو قرض پر نفع لینے کے باعث یہ ایک سودی معاملہ ہے جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔البتہ سوال میں جو متبادل صورت لکھی گئی ہے کہ خریدار جانور پسند کر کے اس کو ڈیلر سے خریدنے کا وعدہ کر لے اور جب ڈیلر جانور خرید کر اس کو اپنے قبضے میں کر لے تو خریدار ڈیلر کے ساتھ قسطوں پر جانور خریدنے کا معاملہ کر لے تو اس طرح یہ معاملہ جائز ہوگا لیکن اس میں بیع بالاقساط کی شرائط کا خیال رکھنا ضروری ہوگااوہ شرائط یہ ہیں

1۔مجلس عقد میں یہ طے کر لیا جائے کہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا ۔

2۔ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے ۔

3۔کل کتنی قسطوں کی صورت میں ادائیگی مکمل ہو گی یہ بات طےکر لی جائے ۔

4۔کسی قسط کی تاخیر کی صورت میں کوئی جرمانہ مشروط نہ ہو۔

5۔خریدنےوالا مبیع پر قبضہ کر لے اور ملکیت بھی منتقل کردی جائے۔

وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 166)

وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد ؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم ، وأتما العقد عليه فهو جائز ؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد(المبسوط للسرخسی،کتاب البیوع،باب البيوع الفاسدة)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4547 :

لرننگ پورٹل