لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

درج ذیل واقعے کی تصدیق مطلوب ہے۔

’’ علامہ سیوطی رحمہ اللہ ایک دفعہ بہت سخت بیمار ہوئے ، شفایابی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے تھے، خواب میں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ، آپ کے ساتھ پرندے بھی تھے، آپ نے فرمایا: بیٹا یہ دعا کیوں نہیں پڑھتے «بِسمِ اللهِ رَبِّیَ الله، حَسبِیَ الله، تَوَکَّلتُ عَلی الله،ِ اِعتَصَمتُ باللهِ، فَوَّضتُ اَمرِی اِلی اللهِ، مَاشَآء الله، لَاقُوَّةَ اِلَّا باللهِ» پھر وہ پرندے دھیرے دھیرے بندوں کی شکل میں مبدل ہوگئے، ان میں سے ایک نے استفسار کیا کہ اگر کوئی شخص یہ دعا دشمن کے نرغے میں یا قرضے کی ادائیگی کےلیے یا حاسدین کے حسد سے بچنے کےلیے یا جادو وغیرہ سے بچنے کےلیے اس وظیفہ کو پڑھے تو کیسا ہے؟ آپ نے فرمایا: واہ واہ پھر تو کیا کہنے! یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ میں نے پوچھا آپ کے ساتھ یہ حضرت ابوبکر صدیق ہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں، یہ سید الشہداء حضرت حمزہ ہیں اور دیگر لوگ جو پرندوں کی شکل سے انسانوں کی شکل میں منتقل ہوئے یہ شہداء احد ہیں۔ علامہ سیوطی فرماتے ہیں: میں یہ دعا پڑھتا رہا، یہاں تک کہ میری آنکھ کھل گئی اور میں بالکل تندرست کھڑا ہوگیا۔‘‘

الجواب باسم ملهم الصواب

ہمیں یہ واقعہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ کے حوالے سے کسی کتاب میں نہیں ملا۔ البتہ شیخ یوسف بن اسماعیل نبہانی نے ’’سعادۃ الدارین فی الصلاۃ علی سید الکونین‘‘ صفحہ نمبر: 651،طبع دار الکتب العلمیہ میں ايك واقعہ نقل کیا ہے:

وقال بعض الصالحين: أصابني وجع شديد، فرأيت النبي ﷺ في المنام قد وضع يده علی رأسي، وقال: بسم الله ربي الله، حسبي الله، توكلت علی الله، اعتصمت بالله، فوضت أمري إلی الله ما شاء الله لا قوة إلا بالله، ثم قال استكثروا من هذه الكلمات فإن فيها شفاء من كل سقيم، وفرجاً من كل كرب، ونصرًا علی الأعداء.ترجمہ:’’ ایک بزرگ نے فرمایا: کہ ایک بار مجھے سخت تکلیف لاحق ہوگئی، چنانچہ میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی اور دیکھا کہ انھوں نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا ہوا ہے اور فرما رہے ہیں: بسم الله ربي الله، حسبي الله، توكلت علی الله، اعتصمت بالله، فوضت أمري إلی الله ما شاء الله لا قوة إلا بالله. اور پھر فرمایا کہ ان کلمات کا ورد کثرت سے کرو کیوں کہ ان میں ہر بیماری کا علاج، ہر تکلیف کا ازالہ اور دشمنوں پر فتح ہے‘‘۔ 

 اس واقعہ کو علامہ سیوطی کی طرف منسوب کرنے کے بجائے ’’سعادۃ الدارین‘‘ کے حوالے سے بعض بزرگوں کی طرف نسبت کرکے بیان کیا جائے۔

وقد ذكروا لقوله سبحانه: فَإِنْ تَوَلَّوْا الآية ما ذكروا من الخواص، وقد أخرج أبو داود عن أبي الدرداء موقوفا وابن السني عنه قال: «قال رسول الله صلّی الله عليه وسلم: من قال حين يصبح وحين يمسي حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم سبع مرات كفاه الله تعالی ما أهمه من أمر الدنيا والآخرة. وأخرج ابن النجار في تاريخه عن الحسين رضي الله تعالی عنه قال: من قال حين يصبح سبع مرات حسبي الله لا إله إلا هو إلخ لم يصبه في ذلك اليوم ولا تلك الليلة كرب ولا نكب ولا غرق،

وأخرج أبو الشيخ عن محمد بن كعب قال: خرجت سرية إلی أرض الروم فسقط رجل منهم فانكسرت فخذه فلم يستطيعوا أن يحملوه فربطوا فرسه عنده ووضعوا عنده شيئا من ماء وزاد فلما ولوا أتاه آت فقال: ما لك هاهنا؟ قال: انكسرت فخذي فتركني أصحابي فقال: ضع يدك حيث تجد الألم وقل: فَإِنْ تَوَلَّوْا الآية فوضع يده فقرأها فصح وركب فرسه وأدرك أصحابه، وهذه الآية ورد هذا الفقير ولله الحمد منذ سنين نسأل الله تعالی أن يوفق لنا الخير ببركتها إنه خير الموفقين. (روح المعانی، التوبۃ: 129)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4362 :

لرننگ پورٹل