لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022

ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ کسی کو یوں نہیں کہنا چاہیے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ میں فلاں فلاں آیت بھلا دیا گیا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کہنے سے کیوں منع کیا گیا ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

سوال ميں مذكور روایت بخاری شریف سمیت حدیث کی بہت سی کتابوں میں موجود ہے۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ ﷺ بِئْسَ مَا لأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ نُسِّيَ وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ. (صحيح البخاری، كتاب فضائل القرآن، باب استذكار القرآن وتعاهده) ترجمہ:’’حضرت عبد الله رضي الله عنه فرماتے هيں كه رسول الله ﷺ نے فرمايا: برا ہے کسی شخص کےلیے کہ وہ یہ کہے ’’میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں‘‘، بلکہ یہ کہےکہ بھلادیا گیا ہوں، اور قرآن کو یاد  رکھوکیونکہ جس طرح اونٹ اپنی نکیل سے خود کو چھڑوالیتا ہے قرآن اس سے بھی زیادہ سرعت کے ساتھ سینے سے نکل سکتا ہے۔‘‘

اس حدیث میں جو اس بات سے منع کیا گیا کہ یہ نہ کہو کہ میں بھول گیا ہوں، اس ممانعت کی وجہ محدثین نے یہ بیان فرمائی ہے کہ قرآن کریم کا بھول جانا یا تو اس وجہ سے ہوا کہ اس نے قرآن کریم کو یاد کرنے میں کوتاہی کی یا اس کو بالکل چھوڑ دیا اور اس طرف توجہ نہیں کی، جس کی وجہ سے یہ بھول گیا یا پھر اس سے کوئی گناہ سرزد ہوا اور قرآن کریم کی اس سے بے حرمتی ہوئی، جس کی وجہ سے یہ قرآن کریم کو بھول گیا۔ بہر صورت اس میں اپنے ایک گناہ کا اظہار ہے اور گناہ کا اظہار کرنا اچھی بات نہیں۔ اس وجہ سے اس قول کو برا کہا گیا لہذا ایسا کہنا مکروہ تنزیہی ہے باقی یہ کہنے کی اجازت ہےکہ مجھ سے بھلا دیا گیا کیونکہ اس صورت میں نسیان کی نسبت اللہ رب العزت کی طرف ہوگی اس حیثیت سے کہ اللہ رب العزت خالق افعال ہیں نسیان کو کسی بھی سبب سے بندے کے اندر پیدا فرما دیں۔دوسرا احتمال شراح نے یہ بیان فرمایا ہے کہ یہ ممانعت رسول اللہﷺ کے زمانے کے ساتھ خاص تھی، جس وقت قرآن کریم کا نسخ ہونے کا سلسلہ جاری تھا، تو اس وقت کوئی یہ کہتا کہ میں فلاں آیت بھول گیا ہوں تو یہ احتمال تھا کہ کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ قرآن کریم کا ایک محکم حصہ ضائع ہو گیا، بلکہ یہ سکھایا گیا کہ یہ نسخ وغیرہ سب اللہ رب العزت کی مرضی اور مصلحت کے تحت ہوتے ہیں۔

(بل نسي) بضم النون وكسر السين المهملة المشددة. وقال القرطبي: رواه بعض رواة مسلم بالتخفيف، وقال عياض: كان أبو الوليد الوقشي لا يجوز في هذا غير التخفيف، وقال القرطبي: التثقيل معناه أنه عوقب بوقوع النسيان عليه لتفريطه في معاهدته واستذكاره، قال: ومعنی التخفيف أن الرجل تركه غير ملتفت إليه، والحاصل أن الذم فيه يرجع إلی المقال فنهي أن يقال: نسيت آية كذا إلا أنه يتضمن التساهل فيه والتغافل عنه وهو كراهة تنزيه، وقال القاضي: الأولی أن يقال: إنه ذم الحال لازم المقال، أي: بئس حال من حفظ القرآن فيغفل عنه حتی نسيه، وقال الخطابي: بئس، يعني: عوقب بالنسيان علی ذنب كان منه أو علی سوء تعهده بالقرآن حتی نسيه، وقد يحتمل معنی آخر وهو أن يكون ذلك في زمنه صلی الله عليه وسلم حين النسخ وسقوط الحفظ عنهم. فيقول القائل منهم: نسيت كذا، فنهاهم عن هذا القول لئلا يتوهموا علی محكم القرآن الضياع، فأعلمهم أن ذلك بإذن الله، ولما رآه من المصلحة في نسخه، ومن أضاف النسيان إلی الله تعالی فإنه خالقه وخالق الأفعال كلها، ومن نسبه إلی نفسه فلأن النسيان فعل منه يضاف إليه من جهة الاكتساب والتصرف. ومن نسب ذلك إلی الشيطان. كما قال يوشع بن نون، عليه السلام {وما أنسانيه إلا الشيطان} (الكهف: 36) فلما جعل الله له من الوسوسة، فلكل إضافة منها وجه صحيح. (عمدة القاری، كتاب فضائل القرآن، باب استذكار القرآن وتعاهده) 

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4230 :

لرننگ پورٹل