لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

حدیث جبریل کی ایک عبارت ہے:’’ ووضع كفيه علی فخذيه ‘‘اس عبارت کا کیا مطلب ہے؟ کیا حضرت جبریل علیہ السلام نے اپنے گھٹنے پر ہاتھ رکھے تھے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

علمائے محدثين نے دونوں احتمالات بیان فرمائے ہیں، ایک یہ کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے اپنے دونوں ہاتھ ایک با ادب طالب علم کی طرح اپنے ہی گھٹنوں پر رکھے اور دوسرا احتمال یہ کہ بے تکلفی کے طور پر رسول اللہ ﷺ کے گھٹنوں پر رکھے۔ البتہ علامہ طیبی رحمہ اللہ کی ترجیح کے مطابق پہلا احتمال مراد لینا زیادہ مناسب ہے، یہی مطلب علامہ نووی اور علامہ سیوطی رحمہما اللہ شارحین مسلم نے مراد لیا ہے۔

قوله: (وضع يديه علی فخذيه) قال الشيخ: التوربشتی: الضمير في الكلمتين راجع إلی جبرئيل (عليه السلام) فلو ذهب مؤول إلی أن الثاني يعود إلی رسول الله – صلی الله عليه وسلم – لم ينكر عليه، لما يدل عليه نسق الكلام من قوله: (وأسند ركبتيه إلی ركبتيه) غير أنا نذهب إلی الوجه الأول، لأنه أقرب إلی التوقير، وأشبه بسمت ذوی الأدب. وذهب محيي السنة إلی الوجه الثاني فی كتابه المسمی ب (الكفاية). وكذا إسماعيل بن الفضل التيمی في كتابه المسمی ب (الترغيب والترهيب). (شرح المشكاة للطيبي الكاشف عن حقائق السنن، كتاب الايمان، الفصل الاول)

ووضع كفَّيْه علی فَخِذَيْه) أي فخذي نفسه متأدبًا، أو فخذي رسول الله – صلی الله عليه وسلم – متبسِّطًا. (بذل المجهود في حل سنن أبي داود، اول كتاب السنة، باب القدر)

(ووضع كفيه علی فخديه) معناه أن الرجل الداخل وضع كفيه علی فخدي نفسه وجلس علی هيئة المتعلم. (شرح السيوطي علی مسلم، الجزء الاول)

(ووضع كفيه علی فخذيه) معناه أن الرجل الداخل وضع كفيه علی فخذي نفسه وجلس علی هيئة المتعلم والله أعلم. (شرح النووي علی مسلم ، كتاب الايمان، باب بيان الإيمان والإسلام والإحسان)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4317 :

لرننگ پورٹل