لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

کیا آپ مجھے اس حدیث مبارکہ کی تصدیق کرکے بتاسکتے ہیں؟

’’حضورﷺ کا ارشاد پاک ہے: کسی کی نیکی کا اندازہ کرنے کے لیے صرف  اس کے نماز روزے ہی کو نہ دیکھو (یعنی کسی کے صرف نماز روزے ہی کو دیکھ کر اس کے معتقد نہ ہوجاؤ) بلکہ یہ چیز دیکھو کہ جب بات کرے تو سچ بولے اور جب کوئی امانت اس کے سپرد کی جائے تو اس کو ٹھیک ٹھیک ادا کرے اور تکلیف اور مصیبت کے دنوں میں بھی پرہیز گاری پر قائم رہے۔‘‘

الجواب باسم ملهم الصواب

مذکورہ روایت جضرت عبد اللہ بن المبارک کی کتاب ’’الزهد والرقاق‘‘ اور امام ابو داؤد رحمہ اللہ کی کتاب ’’الزہد‘‘ میں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے موقوفا مروی ہے۔ اسی طرح حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی ’’المطالب العالیۃ‘‘ میں اس روایت کو ذکر کیا ہے۔

قَالَ مُسَدَّدٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَی، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطِيَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دلاَّف، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ [بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ]، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: [أَنَّهُ قال]: لا يغرَّنك صلاة امریءٍ وَلَا صيامُه، وَلَكِنْ إِذَا حَدَّثَ صَدَقَ، وَإِذَا اؤتمن أدی، وإذا أشفی ورع. (قال الحافظ ابن حجر) هذا موقوف صحيح. (المطالب العالية محققا، 11/ 620)

لیکن اس کتاب کے اصل نسخے میں الفاظ ’’سمع صلی اللہ علیہ وسلم يقول‘‘ کا اضافہ بھی موجود ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حضور ﷺ سے مرفوعا روایت کیا ہے۔ لیکن روایت کے بعد حافظ ابن حجر رحمہ اللہ رقم فرماتے ہیں: ’’موقوف صحیح‘‘۔ یعنی یہ روایت صحابی پر موقوف ہے اور صحیح ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل نسخے میں غالبا کاتب کی غلطی سے الفاظ ’’سمع صلی اللہ علیہ وسلم يقول‘‘ کا اضافہ ہوگیا ہے۔ چنانچہ اس روایت کے بارے میں صحیح یہ ہے کہ یہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک نہیں۔

قال المحققون تعليقا علی الرواية: في الأصل و (حس) "أنه سمع -صلی الله عليه وسلم- يقول" فصار الحديث مرفوعًا، والصحيح أنه موقوف كما بين الحافظ هنا، وكما سيأتي في تخريجه. (تحقيق علی حاشية المطالب العالية)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4378 :

لرننگ پورٹل