لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022

 روزے میں جان بوجھ کر پانی پینے سے کیا روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ نیز اس کے بعد کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

رمضان کے روزے کی حالت میں جان بوجھ کرکھانا پینا اور ہمبستری کرنا حرام ہے، اگر کسی نے ایسی غلطی کی تو اس پر قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہیں یعنی اکسٹھ روزے رکھے، ایک قضاء اور ساٹھ کفارے کے، اگر کسی مجبوری سے ساٹھ روزے رکھنے پر قدرت نہ ہو تو پھر حکم یہ ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے۔ روزہ رکھنے کی صورت میں ان روزوں کو مسلسل رکھنا ضروری ہے۔ البتہ عورتوں کے لئے ایام ماہواری چونکہ ایک شرعی عذر ہے اس لئے مہینے کے درمیان میں اگر ماہواری شروع ہوجائے تو ان ایام میں روزے چھوڑ کر جب پاک ہوں تو دوبارہ روزے رکھ کر گنتی پوری کر لے ۔از سرِ نو روزے رکھنے کی ضرورت نہیں لیکن اگر حیض کے علاوہ ایک روزہ بھی چھوٹ گیا تو از سر نو ساٹھ روزے رکھنا لازم ہوگا ۔ اگر رمضان کے اداء روزے کے علاوہ کوئی اور روزہ جان بوجھ کر توڑ دیا تو صرف قضاء لازم ہے کفارہ نہیں۔

(الف) أو أكل أو شرب عمدا غذاء أو دواء قضی وكفر ككفارة الظهار. (البحر الرائق، كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده)

(ب) فأكل عمدا قضی وكفر ككفارة المظاهرای کذا في الترتيب فيعتق أولا فإن لم يجد صام شهرين متتابعين فإن لم يستطع فاطعام ستين مسكينا(رد المحتار، کتاب الصوم،باب ما يفسد الصوم…)

(ج) وكفر أي مثلها في الترتيب فيعتق أولا فإن لم يجد صام شهرين متتابعين فإن لم يستطع أطعم ستين مسكينا لحديث الأعرابي المعروف في الكتب الستة فلو افطر ولو لعذر استأنف الا لعذر الحیض (رد المحتار، کتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم…) 

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3948 :

لرننگ پورٹل