لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022

سوال نمبر۱: روزے کی حالت میں ناف میں تیل یا کوئی دوا وغیرہ لگائی جاسکتی ہے؟

سوال نمبر۲: جماعت میں اگر اگلی صف مکمل ہوگئی اور پچھلی صف بنانی ہے اور بعض لوگ وضو کررہے ہیں، امام صاحب رکوع میں چلے گئے ہیں تو کیا اکیلا آدمی ان کے ساتھ شامل ہوسکتا ہے؟ کیا اس کو رکوع میں چلا جانا چاہیے یا بقیہ لوگوں کے آنے تک نماز شروع نہ کرے؟ نیز اگر کسی نے ایسے نماز پڑھی ہے تو اب اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

۱۔ روزے کی حالت مین ناف میں تیل یا دوا ڈالنا جائز ہے اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

(قوله: وإن وجد طعمه في حلقه) أي طعم الكحل أو الدهن كما في السراج وكذا لو بزق فوجد لونه في الأصح بحر قال في النهر؛ لأن الموجود في حلقه أثر داخل من المسام الذي هو خلل البدن والمفطر إنما هو الداخل من المنافذللاتفاق علی أن من اغتسل في ماء فوجد برده في باطنه أنه لا يفطر وإنما كره الإمام الدخول في الماء والتلفف بالثوب المبلول لما فيه من إظهار الضجر في إقامة العبادة لا؛ لأنه مفطر. اهـ. وسيأتي أن كلا من الكحل والدهن غير مكروه وكذا في الحجامة إلا إذا كانت تضعفه عن الصوم.(رد المحتار، كتاب الصوم، باب مايفسد الصوم وما لا يفسده)

۲۔اگر اگلی صف مکمل ہو چکی ہے تو اس صورت میں اکیلا آدمی پچھلی صف میں کھڑا ہو کر جماعت میں  شامل ہو سکتا ہے خواہ دوسرے مقتدی کے آنے کی امید ہو یا نہ ہو۔

وقدمنا كراهة القيام في صف خلف صف فيه فرجة للنهي، وكذا القيام منفردا، وإن لم يجد فرجة، بل يجذب أحدا من الصف. ذكره ابن الكمال، لكن قالوا: في زماننا: تركه أولی، فلذا قال في البحر: يكره وحده إلا إذا لم يجد فرجة (الدر المختار، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3764 :

لرننگ پورٹل