لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

میں نے سنا ہے کہ اگر کوئی مزدور وغیرہ ہے جس کے لیے محنت و مشقت کے باعث  رمضان کے روزے رکھنا مشکل ہے ،تو اس کو بھی روزے چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے، اس کا حکم ایک مفتی صاحب نے بتایا تھا کہ وہ رمضان کا روزہ رکھے گا لیکن جب روزے کے دوران اس کی حالت بہت بگڑ جائے، بےہوش یا مرنے والی حالت ہوجاہے تو وہ اپنا روزہ افطار کرلے گا وہ ہر روز ایسا ہی کرے گا اور بعد میں جو روزے اس مجبوری کی وجہ سے کھولے  تھے ان کو پورا کرے گا کیونکہ وہ روزہ رکھنے کی استطاعت رکھتا ہے لیکن کام کی سختی کی وجہ سے اس کو جاری نہیں رکھ پاتا، سوال یہ ہےکہ اسی مجبوری والی صورت کے تحت گھر میں کام کرنے والی ملازمہ کو بھی یہی مشہورہ دے سکتے ہیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

۔گھر میں کام کرنے والی ملازمہ اور دھوپ میں محنت مزدوری کرنے والے مزدور کے کام میں واضح فرق موجود ہے، اس لیے گھر کی ملازمہ کے ذمے روزہ رکھنا اور اس کو جاری رکھنا ممکن بھی ہے اور ضروری بھی ہے۔ لہذا اُس کو ایسا مشورہ دینا مناسب نہیں۔ باقی ملازمہ پر روزے کی حالت میں اتنا بوجھ ڈالنا، جس سے وہ روزہ توڑنے پر مجبور ہوجائے، درست نہیں۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3737 :

لرننگ پورٹل