لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

 رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’میں علی سے ہوں اور علی مجھ سے ہے‘‘۔ اس روایت کے حوالے سے رہنمائی فرمائیے، کیا یہ روایت درست ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

یہ روایت مسند احمد میں ہے:قالَ لِعَلِيٍّ: " أَنْتَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْكَ " وَقَالَ لِجَعْفَرٍ: " أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي " وَقَالَ لِزَيْدٍ: " أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلانَا " فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلا تَزَوَّجُ ابْنَةَ حَمْزَةَ؟ فَقَالَ: " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ". (مسند أحمد، مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه) ترجمہ:’’رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم مجھ سے اور میں تم سے ہوں۔ اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم جسامت اور اخلاق میں مجھ جیسے ہو، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم ہمارے بھائی اور دوست ہو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول! آپ حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیوں کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے‘‘۔

اس روایت کی سند کو محقق شعیب الارنؤوط نے حسن لکھا ہے: إسناده حسن. حجاج: هو ابن محمد المصيصي الأعور. وانظر ما تقدم. (مسند أحمد، مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه)

اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہﷺ کاقرب حاصل ہےاور علم کے اعتبار سے یا نسب کے اعتبار سے ساتھ مراد ہے، اور اس سے مقصد حضرت علیؓ سے راضی اور خوشی کا اظہار ہے۔

(أنت) مبتدأ خبره (مني وأنا منك) أي أنت متصل بي قربًا وعلمًا أو نسبًا (وقال عمر) بن الخطاب -رضي الله عنه- في علي مما وصله قريبًا في الباب السابق: (توفي رسول الله -صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وهو عنه راض). (إرشاد الساری للقسطلاني شرح صحيح البخاري، 6/115)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4369 :

لرننگ پورٹل