لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022

ایک پوسٹ موصول ہوئی جس میں صحیح مسلم کے حوالے سے ایک حدیث شریف مذکور تھی جس کا مضمون یہ تھا:’’ جس گھر کے دروازے رشتہ داروں کےلیے بند ہوں اور جس گھر میں رات کو دیر تک جاگنے اور صبح کو دیر سے اٹھنے کا رواج ہوجائے تو وہاں رزق کی تنگی اور بےبرکتی کو کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘ اس حدیث کے بارے میں بتائیے کیا یہ صحیح ہے؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

سوال میں جو الفاظ ذکر کئے گئے ہیں بعینہ ان  الفاظ کے ساتھ کوئی روایت صحیح مسلم میں موجود نہیں اور نہ ہی حدیث کی کسی اور کتاب میں ہمیں یہ روایت ملی، البتہ صحیح مسلم میں رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کے متعلق ایک روایت ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے:عَن أَنَس بْن مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ» (مسلم، كتاب البر والصلة والآداب،باب صلة الرحم وتحريم قطيعتها) ترجمه:’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں وسعت ہو اور اس کے نشان قدم (باقی رکھنے) میں دیر کی جائے تو وہ صلہ رحمی قائم کرے‘‘۔

اسی طرح صبح دیر سے اٹھنے اور نماز قضاء  کر دینے سے رزق میں تنگی آنے اور گھر میں نحوست آنے کے متعلق روایات میں ذکر آتا ہے چنانچہ حدیث شریف میں ہے: قال رسول الله – صلی الله عليه وسلم -: "الصُّبحة تمنع الرزق".(مسند احمد) ترجمہ:’’ صبح کے وقت سونا رزق میں بے برکتی کا سبب ہے‘‘۔

عن فاطمة بنت محمد صلی الله عليه وسلم قالت: مر بي رسول الله صلی الله عليه وسلم وأنا مضطجعة متصبحة، فحركني برجله، ثم قال: " يا بنية قومي اشهدي رزق ربك، ولا تكوني من الغافلين، فإن الله يقسم أرزاق الناس ما بين طلوع الفجر إلی طلوع الشمس ".(شعب الايمان) ترجمہ:’’سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: 'میں صبح کے وقت سوئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور آپ نے مجھے پاؤں سے ہلایا پھر فرمایا: بیٹی! اٹھو! اپنے رب کی طرف سے رزق کی تقسیم میں شامل ہو جاؤ اور غفلت شعار لوگوں کی عادت اختیار نہ کرو، اللہ تعالٰی طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک لوگوں کا رزق تقسیم کرتے ہیں‘‘۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4113 :

لرننگ پورٹل