لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

آج کل ایک بیماری عام ہورہی ہے جسے کورونا وائرس کہا جارہا ہے، اس سے اور دیگر بیماریوں سے بچنے کےلیے ایک دعا ہے، جو شخص وہ دعا پڑھتا ہے اللہ تعالی اس کی حفاظت فرماتے ہیں۔ وہ دعا یہ ہے: الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني علی كثير ممن خلق تفضيلا. سوال یہ ہے کہ اس دعا کی جو فضیلت اوپر ذکر ہوئی کیا یہ حدیث سے ثابت ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

 یہ دعا سنن ترمذی کی ایک روایت میں ہے:عَنْ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ رَأَی صَاحِبَ بَلاَءٍ، فَقَالَ: الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلاَكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَی كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلاً، إِلَّا عُوفِيَ مِنْ ذَلِكَ البَلاَءِ كَائِنًا مَا كَانَ مَا عَاشَ. (سنن الترمذي، ابواب الدعوات) ترجمہ:’’حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی تکلیف میں مبتلا شخص کو دیکھ کر یہ دعا پڑھے کہ ’’تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اس تکلیف سے بچایا جس میں تم مبتلا ہوئے اور مجھے کئی لوگوں پر فوقیت دی‘‘ تو وہ شخص اس تکلیف سے محفوظ رکھا جائے گا جب تک زندہ رہےگا‘‘۔

 چنانچہ کسی صاحب مرض کو دیکھ کر یا کسی بیماری کے بارے میں جان کر  یہ دعا پڑھی جائے تو  اس دعا کی برکت سے وہ شخص ان شاء اللہ تعالیٰ اس بیماری سے محفوظ رہے گا۔

(من رأی مبتلی) فِي بدنه أَو دينه أَي علم بِحُضُورِهِ. (التيسير بشرح الجامع الصغير، 2\418)

اور عمومی طور پر بیماریوں سے حفاظت کے لیے ایک اور دعا اس روایت میں موجود ہے: وعن عبد الرحمن بن أبي بَكْرة أنه قال لأبيه: "يا أَبَةِ، إني أسمعُك تدعو كُلَّ غداةٍ: اللهم عافني في بَدَني، اللهم عافني في سَمْعي، اللهم عافنِي في بَصَري، لا إله إلا أنت، تعيدها ثلاثًا حين تُصْبح، وثلاثًا حين تمسي، فقال: إني سمعت رسول اللَّه -صلی اللَّه عليه وسلم- يدعو بهن، فأنا أُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّته". (سنن أبی داود، کتاب الآداب، ابواب النوم) ترجمہ:’’ حضرت عبد الرحمن بن أبی بکرہ نے اپنے والد سے کہا کہ میں ہر صبح آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنتا ہوں: اللهم عافني في بَدَني، اللهم عافني في سَمْعي، اللهم عافنِي في بَصَري، لا إله إلا أنت، آپ اس دعا کو آپ ہر صبح اور ہر شام تین تین بار دہراتے ہو؟ ان کے والد نے فرمایا میں یہ الفاظ اس لیے پڑھتا ہوں کہ میں نے ان الفاظ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کو دعا مانگتے سنا ہے اور مجھے آپ ﷺ کی سنت پر چلنا بہت پسند ہے‘‘۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4311 :

لرننگ پورٹل