لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

صلح حدیبیہ کے موقع پر 1400 صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کےساتھ تھے،جب وہ عمرہ سے روک دیے گئے تو انھوں نے دم کا جانور وہیں قربان کیا جہاں وہ روک لیے گئے۔ دوسرے سال جب وہ دوبارہ عمرہ کے لیے آئے تو صحابہ کرام کی تعداد 1400 سے کم تھی۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی وجہ سے عمرہ نہ ہو سکے تو کیا واقعی عمرہ کی قضا واجب ہوگی؟

الجواب باسم ملهم الصواب

جو شخص عمرہ کا احرام باندھ لے اور کسی وجہ سے عمرہ ادا نہ کر سکے، تو اس پر عمرے کی قضاء واجب ہے۔ نبی کریمﷺنے صلح حدیبیہ کے موقع پر تقریباً 1400 صحابہؓ کے ساتھ عمرے کا ارادہ فرمایا، لیکن کفار مکہ نے عمرہ ادا نہ کرنے دیا، تو احصار کا دم ادا کرکے احرام سے حلال ہوگئے، اس کے بعد آئندہ سال آپﷺ نے عمرے کی قضاء کا ارادہ فرمایا تو اعلان فرمایا کہ جو حدیبیہ کے موقع پر ہمارے ساتھ موجود تھے، ان میں سے کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔ چناں چہ عمرۃ القضاء کے موقع پردو ہزار لوگوں کے لشکر کے ساتھ آپ ﷺ نے عمرہ ادا فرمایا۔

قال في اللباب: واعلم أن المحرم إذا نوی رفض الإحرام فجعل يصنع ما يصنعه الحلال من لبس الثياب والتطيب والحلق والجماع وقتل الصيد فإنه لا يخرج بذلك من الإحرام، وعليه أن يعود كما كان محرما، ويجب دم واحد لجميع ما ارتكب ولو كل المحظورات، وإنما يتعدد الجزاء بتعدد الجنايات إذا لم ينو الرفض، ثم نية الرفض إنما تعتبر ممن زعم أنه خرج منه بهذا القصد لجهله مسألة عدم الخروج، وأما من علم أنه لا يخرج منه بهذا القصد فإنها لا تعتبر منه. اهـ.(رد المحتار، كتاب الحج)

وقال الحاكم في الإكليل تواترت الأخبار أنه صلی الله عليه وسلم لما هل ذو القعدة أمر أصحابه أن يعتمروا قضاء عمرتهم وأن لا يتخلف منهم أحد شهد الحديبية فخرجوا إلا من استشهد وخرج معه آخرون معتمرين فكانت عدتهم ألفين سوی النساء والصبيان قال وتسمی أيضا عمرة الصلح (فتح الباري، باب عمرة القضاء)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4377 :

لرننگ پورٹل