لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

کیا میوچول فنڈز میں انویسٹ کرنا جائز ہے؟برائے مہربانی دلیل کے ساتھ بیان فرمادیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

مذکورہ فنڈز کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ کوئی بینک یا کوئی بھی کمپنی ایک فنڈ قائم کرتی ہے اور لوگوں کو اس میں اپنی رقوم لگانے کی ترغیب دیتی ہے اور جب سرمایہ جمع ہوجاتا ہے تو ایک وقت کی تحدید کے ساتھ اس جمع شدہ رقم کو کسی بھی کاروبار میں لگاکر حاصل ہونے والے منافع کو اپنے اور اپنے شرکاء کے درمیان تقسیم کردیتی ہے۔ یہ سرمایہ کاری عام طوربینکوں کے ذریعہ کی جاتی ہے اس لیے اس سرمایہ کاری کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ چونکہ بینکوں کے اندر موجود نظام میں شرعی سرمایہ کاری جو مرابحہ، مشارکہ یا مضاربہ وغیرہ کے تحت ہوتی ہے وہ بھی بہت سی خرابیوں پر مشتمل ہونے کی بناء پر جائزنہیں۔ اس لیے shariah compliant mutual funds جو کسی بینک کے ذریعہ کام کرتا ہے اس میں سرمایہ کاری جائز نہیں۔ البتہ اگر یہ فنڈ بینک کے علاوہ کسی اور کمپنی کے ذریعہ قائم کیے گئے ہوں تو اس صورت میں کاروبار وغیرہ کی نوعیت دیکھ کر جواز یا عدم جواز کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

باقی جہاں تک اسلامی بینکوں کا معاملہ ہے، اس حوالے سے ہمار اصولی مؤقف یہ ہے کہ یہ معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے اور علماء کرام میں اس کے حلال یا حرام ہونے پردونوں  طرح کی آراء پائی جاتی ہیں جو اس معاملے کو ایک عام آدمی کے لئے مزید پیچیدہ اور مشکوک بنادیتی ہیں۔خصوصاً جب کہ دونوں طرف انتہائی قابل اور جید علمائے کرام کی رائے موجود ہو جن کے علم اور تقویٰ پر یقینا ً اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ اس صورتحال میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک عام آدمی کیا کرے ؟ احادیث نبوی ﷺ اور صحابہ کرام کے اعمال اور اقوال سے ہمیں اس صورتحال میں جو رہنمائی ملتی ہے وہ مندرجہ ذیل ہے:

عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ فَمَنْ اتَّقَی الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَی حَوْلَ الْحِمَی يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًی أَلَا وَإِنَّ حِمَی اللَّهِ مَحَارِمُهُ(مسلم،کتاب المساقاة،باب أخذ لحلال وترك الشبهات) ترجمہ:’’ حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپ ﷺفرماتے تھے حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبھات ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے پس جو شبہ میں ڈالنے والی چیز سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ کرلیا اور جو شبہ ڈالنے والی چیزوں میں پڑ گیا تو وہ حرام میں پڑ گیا اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی دوسرے کی چراگاہ کے ارد گرد چراتا ہے، تو قریب ہے کہ جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لیں سنو! ہر بادشاہ کے لئے چراگاہ کی حد ہوتی ہے اور یاد رکھو! اللہ کی چراگاہ کی حد اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔‘‘

لہذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ سود اور اس جیسے دوسرے محرمات سے تو لازما ً بچے ساتھ ہی ان صورتوں سے بھی بچے جن میں حرام کا شائبہ ہو۔یہی وہ حکم ہے جو حضرت عمر فاروق ؓنے فرمایا کہ فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّيبَةَ(ابن ماجہ، کتاب التجارات،باب التغليظ في الربا) ترجمہ:’’چھوڑ دو سود کو اور اُس کو بھی جس میں سود کا شبہ ہو۔‘‘اس واضح رہنمائی کے بعد عامۃ المسلمین کے لئے احتیاط پر مبنی روش یہی ہے کہ وہ اسلامی بینکاری کے نام سے جاری اداروں سے بھی اجتناب کریں۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4394 :

لرننگ پورٹل