لاگ ان
بدھ 06 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 30 نومبر 2022
لاگ ان
بدھ 06 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 30 نومبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 06 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 30 نومبر 2022
بدھ 06 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 30 نومبر 2022

 شریعت میں سزائے موت کی کوئی معین صورت یعنی سر قلم کرنا یا پھانسی وغیرہ مقرر ہے یا قاضی کو موت کا طریقہ طے کرنے کا اختیار ہے یا انتظامیہ کو۔ نیز گولی سے مارنے کا شرعی  حکم کیا ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

 جو شخص کسی کو جان بوجھ کر قتل کرنے کی وجہ سے قصاص کا مستحق ہوا ہو تو اس سے قصاص لیا جائے گا اور قصاص کے بارے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ قصاص ورثاء کے سپرد ہے اگر وہ قصاص لینا چاہیں تو لے سکتے ہیں معاف کرنا چاہیں تو معاف بھی کر سکتے ہیں۔ اسی طرح قصاص تلوار یا کسی اسلحہ مثلا خنجروغیرہ سے لیا جائے۔ موجودہ زمانے میں گولی سے مارکر قصاص لینا بھی درست ہے۔ اس کے علاوہ پھانسی یا کسی اورطریقے سے قصاص لینا درست نہیں ۔لہذا ان شرائط کا لحاظ رکھے بغیر اگر فقط پھانسی کی سزا دے دی جائے تو وہ شرعی  قصاص نہیں ہوگا۔

(الف) فولاية استيفاء القصاص تثبت بأسباب: منها: الوراثة، وجملة الكلام فيه أن الوارث لا يخلو إما أن كان واحدا (وإما) إن كانوا جماعة، فإن كان واحدا لا يخلو إما أن كان كبيرا، وإما أن كان صغيرا، فإن كان كبيرا فله أن يستوفي القصاص…. إلا أن حضور الكل شرط جواز الاستيفاء، وليس للبعض ولاية الاستيفاء مع غيبة البعض؛ لأن فيه احتمال استيفاء ما ليس بحق له لاحتمال العفو من الغائب. (بدائع الصنائع، كتاب الجنايات، فصل في بيان من يلي استيفاء القصاص وشرط جواز استيفائه)

(ب) (ولا يقاد إلا بالسيف) وإن قتله بغيره خلافا للشافعي. وفي الدرر عن الكافي: المراد بالسيف السلاح. قلت: وبه صرح في حج المضمرات حيث قال: والتخصيص باسم العدد لا يمنع إلحاق غيره به، ألا تری أنا ألحقنا الرمح والخنجر بالسيف في قوله – عليه الصلاة والسلام – «لا قود إلا بالسيف» فما في السراجية: من له قود قاد بالسيف، فلو ألقاه في بئر أو قتله بحجر أو بنوع آخر عزر وكان مستوفيا يحمل علی أن مراده بالسيف السلاح والله أعلم. (الدر المختار، كتاب الجنايات، فصل فيما يوجب القود وما لا يوجبه)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3723 :

لرننگ پورٹل