لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022

میرے دوست کی پھوپھو کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے نہ والدین زندہ ہیں اور نہ اولاد۔ پھوپھو کو ملاکر کل تین بہنیں اور دو بھائی تھے، جن میں سے ایک بہن زندہ ہے باقی سب کا انتقال ہوچکا ہے، ایک بہن جس کا انتقال ہوگیا ہے اس کے تین بچے ہیں اور ایک بھائی کی ایک اولاد ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کل اثاثے کی حق دار بہن ہوگی یا باقی مرحوم بہن بھائیوں کی اولاد میں بھی تقسیم ہوگی؟

سائل سے بطورِ تنقیح سوال کیا گیا:

آپ کی پھوپھو کے انتقال کے وقت کتنے ورثاء زندہ تھے نیز جن ورثاء کا انتقال ہوا ان کے انتقال کی ترتیب اور مرحومین کے ورثاء کی مکمل ترتیب بیان فرمائیں۔سب کے بیٹوں اور بیٹیوں کی تعداد مکمل بیان فرمائیں۔

سائل کی جانب سے موصولہ جواب:

ایک خاتون جن کا نام درِ شبنم تھا، ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کے نہ والدین زندہ تھے نہ کوئی اولاد تھی اور نہ ہی شوہر، ان خاتون کو ملاکر تین بہنیں اور دو بھائی تھے؛ محمد طارق خان، خالد خان، مسزانجم، درِ شہوار۔ جن میں سے ایک بہن درِ شہوار الحمد للہ حیات ہیں باقی سب کا انتقال مرحومہ درِ شبنم سے قبل ہوچکا ہے۔ایک مرحومہ بہن کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں اور ایک مرحوم بھائی کا ایک بیٹا ہےجبکہ دوسرے مرحوم بھائی کی کوئی اولاد نہیں تھی۔

الجواب باسم ملهم الصواب

 صورت مسئولہ میں مرحومہ نے بوقت انتقال منقولہ، غیر منقولہ جائیداد، نقدی، سونا، چاندی اور چھوٹا بڑا سامان حتی کہ سوئی دھاگہ، جو کچھ اپنی ملک میں چھوڑا ہے، سب مرحومہ کا ترکہ ہے۔ اس میں سے پہلے  تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اس کو ادا کرنے بعد اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو ایک تہائی مال میں نافذ کرنے کے بعد کل مال کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ مرحومہ کی حیات بہن در شہوار کو اور ایک حصہ مرحومہ کے بھتیجے کو ملے گا باقی مرحومہ کے بھانجے بھانجیاں مرحومہ کے ترکے سے محروم رہیں گے۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4312 :

لرننگ پورٹل