لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

میری دادی نے کچھ پیسے قومی بچت بینک میں رکھوائے ہوئے ہیں، اس بینک سے ان کے پاس ہر ماہ منافع آتا ہے۔ میری دادی بیوہ ہیں، جن کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ دادا کی پنشن سے بھی کچھ رقم ان کے پاس آتی ہے، کیا یہ رقم جو قومی بچت بینک سے حاصل کی گئی ہے، حلال ہے یا حرام؟ کیا یہ رقم صرف اس شخص کےلیے حرام ہے جس کے نام پر قومی بچت بینک میں اکاؤنٹ بناہوا ہے یا سب کے لیے؟ مثلا اگر دادی رقم حاصل کرکے اپنی اولاد کو دےدیں جس سے ان کے معاملات زندگی بحال ہوجائیں یا مدد ہوجائے یا اپنے گھر والوں کےلیے فرنیچر دلوادیں یاکسی کو مدد کی نیت سے دےدیں تو کیا یہ رقم وصول کرنے والے پر بھی حرام ہوگی؟اس رقم سے اگر وہ گھر کےلیے راشن دلوادیں تو کیا گھر کے باقی افراد کے لیے بھی یہ حرام ہوگا؟

الجواب باسم ملهم الصواب

قومی بچت بینک میں کھاتہ کھلوانا اور اس سے حاصل ہونے والا نفع لینا جائز نہیں ہے، قومی بچت سے حاصل ہونے والا نفع سود ہے اور سود کا استعمال از خود بھی جائز نہیں اور اس نیت سے سودی کھاتہ کھلوانا کہ اس رقم سے رشتہ داروں کی مدد کی جائے یہ بھی جائز نہیں، البتہ جب تک کھاتہ بند نہیں ہو جاتا اس وقت تک منافع کے نام پر جو   رقم حاصل ہوئی اس کو بغیر ثواب کی نیت سے فقراء پر صدقہ کرنا ضروری ہے ۔  

(الف) والسبيل في المعاصي ردها وذلك هاهنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه وبالتصدق به إن لم يعرفه ليصل إليه نفع ماله إن كان لا يصل إليه عين ماله. (الفتاوی الهندية، كتاب الكراهية، الباب الخامس عشر في الكسب)

(ب) في الذخيرة: سئل الفقيه أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمراء السلطان ومن الغرامات المحرمات وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه؟ قال أحب إلي في دينه أن لا يأكل ويسعه حكما إن لم يكن ذلك الطعام غصبا أو رشوة وفي الخانية: امرأة زوجها في أرض الجور، وإن أكلت من طعامه ولم يكن عين ذلك الطعام غصبا فهي في سعة من أكله وكذا لو اشتری طعاما أو كسوة من مال أصله ليس بطيب فهي في سعة من تناوله والإثم علی الزوج. (رد المحتار، کتاب البیوع، باب البيع الفاسد)

(ج) (قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشتری فهذا علی خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلی البائع أولا ثم اشتری منه بها أو اشتری قبل الدفع بها ودفعها، أو اشتری قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشتری مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشتری بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشتری بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوی الآن علی قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس. (رد المحتار، كتاب البيوع، مطلب إذا اكتسب حراما ثم اشتری فهو علی خمسة أوجه)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4145 :

لرننگ پورٹل