لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022

1۔ صدقۃ الفطر دیتے ہوے ہر روزے کا الگ الگ دینا ہوگا یا ایک ہی؟ مثلا: اگر گندم کے حساب سے دیں تو کیا پورے رمضان کا  100 روپیہ دیں یا پھر 3000 روپے دیں ہر روزے کا ٹوٹل کرکے؟

2۔ اگر میرے ابو مجھ سے کہیں کہ میں نے آپ کا صدقہ الفطر دے دیا ہے تو کیا میں اس کی تحقیق کروں ؟ کہ کہیں وہ بھول تو نہیں گئے وغیرہ۔ اگر ہاں تو کیسے؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

1۔ صدقة الفطر سال میں ایک بار لازم ہوتا ہے جو ہر صاحب نصاب پر اپنی اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے دینا لازم ہوتا ہے اور اس کی مقدار پونے دوسیر گندم یا ساڑھے تین سیر جو، کھجور یا کشمش ہے، ان چار اشیاء میں سے کسی ایک کی قیمت بھی حسب استطاعت ادا کی جاسکتی ہے۔گندم کی قیمت کے اعتبار سے فطرہ دینا چاہیں تو ایک فرد کا فطرہ سو روپے لازم ہے، تیس روزوں کے حساب سے تیس فطرے کی رقم یعنی تین ہزار  لازم نہیں۔

(الف) المريض إذا تحقق اليأس من الصحة فعليه الفدية لكل يوم من المرض. (رد المحتار،كتاب الصوم، فصل في العوارض المبيحة لعدم الصوم)

(ب) وَهِيَ وَاجِبَةٌ عَلَی الْحُرِّ الْمُسْلِمِ الْمَالِكِ لِمِقْدَارِ النِّصَابِ فَاضِلًا عَنْ حَوَائِجِهِ الْأَصْلِيَّةِ كَذَا فِي الِاخْتِيَارِ شَرْحِ الْمُخْتَارِ، وَلَا يُعْتَبَرُ فِيهِ وَصْفُ النَّمَاءِ وَيَتَعَلَّقُ بِهَذَا النِّصَابِ وُجُوبُ الْأُضْحِيَّةِ، وَوُجُوبُ نَفَقَةِ الْأَقَارِبِ هَكَذَا فِي فَتَاوَی قَاضِي خَانْ. وَإِنَّمَا تَجِبُ صَدَقَةُ الْفِطْرِ مِنْ أَرْبَعَةِ أَشْيَاءَ مِنْ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ كَذَا فِي خِزَانَةِ الْمُفْتِينَ وَشَرْحِ الطَّحَاوِيِّ وَهِيَ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ، وَدَقِيقُ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَسَوِيقُهُمَا مِثْلُهُمَا وَالْخُبْزُ لَا يَجُوزُ إلَّا بِاعْتِبَارِ الْقِيمَةِ، وَهُوَ الْأَصَحُّ، وَأَمَّا الزَّبِيبُ فَقَدْ ذَكَرَ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ نِصْفَ صَاعٍ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ – رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَی -؛ لِأَنَّهُ يُؤْكَلُ بِجَمِيعِ أَجْزَائِهِ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ – رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَی – صَاعٌ، وَهُوَ قَوْلُهُمَا ثُمَّ قِيلَ يَجُوزُ أَدَاؤُهُ بِاعْتِبَارِ الْعَيْنِ وَالْأَحْوَطُ أَنْ يُرَاعَی فِيهِ الْقِيمَةُ هَكَذَا فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ. (الفتاوی الهندية، كتاب الزكاة، الباب الثامن في صدقة الفطر)

2۔ نابالغ کا فدیہ سرپرست پر لازم ہوتا ہے بالغ اپنا صدقہ فطر خود ادا کرے تو بہتر ہے لیکن والد صاحب نے ذمہ لیا ہے تو ان کے ادا کرنے سے بھی ادا ہو جائے گا یا ددہانی کے لیے مناسب انداز میں ان سے دریافت کرلیا جائے۔

(قوله: ولو أدی عنهما) أي عن الزوجة والولد الكبير. وقال في البحر: وظاهر الظهيرية أنه لو أدی عمن في عياله بغير أمره جاز مطلقا بغير تقييد بالزوجة والولد. اهـ. (قوله: أجزأ استحسانا) وعليه الفتوی خانية وأفاد بقوله للإذن عادة إلی وجود النية حكما وإلا فقد صرح في البدائع بأن الفطرة لا تتأدی بدون النية تأمل. (رد المحتار،كتاب الزكاة، باب صدقة الفطر)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3894 :

لرننگ پورٹل