لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022

سنن ابی داؤد کی درج ذیل روایت میں چند سوالات ہیں:

۱۔ اس روایت اور اس جیسی روایات کیا درجہ صحت کو پہنچتی ہیں؟

۲۔حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ سوال کرناکہ ’’ أَتَرَاهَا مُصِيبَةً؟ ‘‘ کیا آپ ان کی وفات کو مصیبت سمجھتے ہیں اور حضرت مقدام کا سخت جواب دینااس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت معاویہ وفاتِ حضرت حسن کو ہلکا لے رہےتھے اور حضرت معاویہ کے دل میں حضرت حسن کا کوئی خاص مقام نہیں تھا، اس بارے میں اہل السنۃ والجماعۃ کیا فرماتے ہیں؟

۳۔حضرت مقدام رضی اللہ عنہ کے بقول حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں سونا، ریشم اور درندوں کی کھالیں استعمال میں لائی جاتی تھیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے استعمال سے منع فرمایا ہے، اس بارے میں تسلی بخش جواب عنایت فرمائیے۔

۴۔ حضرت معاویہ کی موجودگی میں ان کے ساتھی اسدی نے حضرت حسن کے بارے میں یہ کہا کہ ’’انگارہ تھا جو بجھ گیا‘‘ اور حضرت مقدام اس پر غصہ ہوئے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ حضرت معاویہ کے ہوتے ہوئے حضرت حسن کی بارے میں اس طرح کی بات کی جائے۔

سنن ابی داود کی روایت یہ ہے:حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِي كَرِبَ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِينَ إِلَی مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ: أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَتَرَاهَا مُصِيبَةً؟ قَالَ لَهُ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً، وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَقَالَ: «هَذَا مِنِّي» وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ؟، فَقَالَ الْأَسَدِيُّ: جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: فَقَالَ الْمِقْدَامُ: أَمَّا أَنَا فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّی أُغَيِّظَكَ، وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ أَنَا صَدَقْتُ فَصَدِّقْنِي، وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ فَكَذِّبْنِي، قَالَ: أَفْعَلُ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَی عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَی عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَی عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ، قَالَ خَالِدٌ: فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ وَفَرَضَ لِابْنِهِ فِي الْمِائَتَيْنِ، فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِهِ، قَالَ: وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَهُ، وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الْإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ۔ (سنن ابی داود، کتاب اللباس، باب في جلود النمور والسباع)

الجواب باسم ملهم الصواب

۱۔ یہ روایت ابو داؤد شریف میں موجود ہے۔ صاحبِ ابو داود نے یہ روایت نقل کرکے اس پر کوئی کلام نہیں فرمایا جو ان کے نزدیک صحیح ہونے کی علامت ہے۔ 

۲۔حدیث میں یہ قول حضرت امیر معاویہؓ کی طرف منسوب نہیں ہے بلکہ اہل مجلس میں سے کسی کا ہے۔ چناں چہ روایت میں ’’فقال له رجل‘‘ کا لفظ ہے، لہذا حضرت امیر معاویہؓ کا حضرت حسنؓ کی وفات کو ہلکا سمجھنا ثابت نہیں ہوا، اسی لیے حضرت امیر معاویہؓ پر یہ اعتراض بھی غلط ہےکہ ان کے دل میں حضرت حسنؓ کا کوئی مقام نہیں تھا۔ بلکہ دیگر روایات سے ثابت ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ، حضرت حسنؓ کا بہت احترام فرماتے تھے۔ اہل سنت والجماعت کی یہی رائے ہے کہ حضرت حسنؓ بہت محترم ومکرم صحابی رسولﷺ ہیں۔ دیگر حضرات کی طرح حضرت امیر معاویہؓ کا ان سے عزت واحترام کا برتاؤ تھا۔

۳۔روایت میں ان چیزوں کے گھر میں ہونے کا تو ذکر ہےلیکن خود حضرت امیر معاویہؓ کے استعمال فرمانے کا ذکر نہیں ہے، اس لیے اس روایت کی بنیاد پر ان پر حدیث کی مخالفت کا الزام درست نہیں۔

۴۔’’انگارہ‘‘ کہنے پر حضرت معاویہؓ کی خاموشی کسی حکمت پر مبنی ہوسکتی ہے، لہذا محض خاموشی کی وجہ سے ان پر عدمِ احترام کا الزام درست نہیں معلوم ہوتا۔

لیکن اس کے برعکس ایسی اور بہت سی روایات ایسی موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ اور حسنین رضی اللہ عنہم کے درمیان تعلقات انتہائی عمدہ اورخلوص سے پر تھے، مثلاً: 

۱۔جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہو گئی تو حضرت حسین ، اپنے بھائی حضرت حسن رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت معاویہ کے پاس جایا کرتے تھے۔ وہ ان دونوں کی بہت زیادہ تکریم کرتے ، انہیں خوش آمدید کہتے اور عطیات دیتے۔ ایک ہی دن میں حضرت معاویہ نے انہیں بیس لاکھ درہم دیے۔ (تاريخ دمشق لابن عساکر، حرف الميم، معاوية بن صخر أبي سفيان)

۲۔حضرت حسن بن علی ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: میں آپ کو ایسا عطیہ دوں گا جو مجھ سے پہلے کسی نے نہ دیا ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے حضرت حسن کو چالیس لاکھ درہم دیے۔ ایک مرتبہ حسن و حسین رضی اللہ عنہما دونوں ان کے پاس آئے تو انہیں بیس بیس لاکھ درہم دیے۔  (تاريخ دمشق لابن عساکر، حرف الميم، معاوية بن صخر أبي سفيان)

۳۔ جب حضرت حسن کا انتقال ہوا تو حضرت حسین برابر ہر سال  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے  پاس جاتے رہے۔ وہ انہیں عطیہ دیتے اور ان کی بھرپور عزت کرتے۔ (البداية والنهاية، سنة ستين من الهجرة، قصة الحسين بن علي)

۵۔ حضرت معاویہ کا حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو تحفے بھیجنا اتنی معروف بات ہے کہ ابو مخنف کو بھی اس سے انکار نہیں ہے۔ موصوف لکھتے ہیں: معاویہ ہر سال حسین رضی اللہ عنہما کو ہر قسم کے تحفوں کےعلاوہ دس لاکھ دینار بھیجا کرتے تھے۔ (مقتل الحسین علیہ السلام لابی مخنف، قم: مطبعہ امیر)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4127 :

لرننگ پورٹل