لاگ ان
جمعرات 07 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 01 دسمبر 2022
لاگ ان
جمعرات 07 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 01 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعرات 07 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 01 دسمبر 2022
جمعرات 07 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 01 دسمبر 2022

ہمارا سونے کا کاروبار ہے، لوگ ہمیں سونے سے بنی ہوئی چیزیں دیتے ہیں اور ہم انہیں ان کے خالص سونے کے بقدر جتنا سونا بنتا ہے دیتے ہیں مثلا ہمیں وہ دو گرام سونےکی چیز دیتے ہیں جس کا خالص ڈیڑھ گرام ہوتا ہے تو ہم انہیں ڈیڑھ گرام سونا دیتے ہیں تو کیا یہ کاروبار اس طریقے سے جائز ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

سونے کی بنی ہوئی چیز جس مین سونا غالب ہو وہ خالص سونے کے حکم میں ہوتی ہے لہذا ملاوٹ شدہ سونے کی چیز کا تبادلہ خالص سونے سے کرتے وقت برابری ضروری ہے کمی زیادتی جائز نہیں۔صورت مسئولہ میں ذکر کردہ معاملہ ناجائز ہے البتہ اگر دو گرام سونے کی چیز کو روپوں کے عوض خریدا جائے یا سونے کی چیز میں سے خالص سونا الگ کر کے اس کو خالص سونے کے عوض اور کھوٹ کو روپوں کے عوض خریدا جائے تو جائز ہے۔

وإذا كان الغالب علی الدراهم الفضة فهي فضة، وإن كان الغالب غلی الدنانير الذهب فهي ذهب ويعتبر فيهما من تحريم التفاضل ما يعتبر في الجياد حتی لا يجوز بيع الخالصة بها ولا بيع بعضها ببعض إلا متساويا في الوزن وكذا لا يجوز استقراضها إلا وزنا لا عددا، وإن كان الغالب عليهما الغش فليسا في حكم الدراهم والدنانير وكانا في حكم العروض قال في المستصفی وهذا إذا كانت لا تخلص من الغش لأنها صارت مستهلكة أما إذا كانت تخلص منه فليست بمستهلكة فإذا بيعت بفضة خالصة فهو كبيع نحاس وفضة فيجوز علی وجه الاعتبار فإذا بيعت بجنسها متفاضلا جاز وهي في حكم شيئين فضة وصفر ولكنه صرف حتی يشترط القبض في المجلس لوجود الفضة فإذا شرط القبض في الفضة شرط في الصفر، وإن كانت الفضة أو الغش سواء لم يجز بيعها بالفضة إلا وزنا كذا في السراج الوهاج. (الفتاوی الهندية، كتاب الصرف، الباب الثاني في أحكام العقد بالنظر إلی المعقود عليه، الفصل الأول في بيع الذهب والفضة)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4298 :

لرننگ پورٹل