لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

میں لندن میں رہتا ہوں اور میری بیوی پاکستان میں۔ میں نے ایک مرتبہ بیوی کو میسج لکھ کر بھیجا کہ ’’میں تمہیں ہمیشہ کےلیے چھوڑ رہا ہوں‘‘ ان الفاظ سے میری نیت طلاق کی نہیں تھی، اب مجھے بتائیے کیا اس سے طلاق ہوئی یا نہیں؟ اگر ہوئی ہے تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

 واضح رہے کہ چھوڑ رہا ہوں کا لفظ عرف میں طلاق کے لئے مستعمل ہے اس لئے اس لفظ سے بلا نیت طلاق واقع ہو جاتی ہے  اسی طرح اگر طلاق کی کوئی ایسی صفت ذکر کی جائے جس سے شدت کا اظہار ہو تو وہ صفت رجعی طلاق کو بائن بنا دیتی ہے 

لہذا صورت مسئولہ میں آپ نے اپنی بیوی کو میسج پر ’’میں تمہیں ہمیشہ کےلیے چھوڑ رہا ہوں‘‘ لکھا تو اس سے آپ کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو گئی اور  آپ کا نکاح ختم ہوچکا ہے،اب دونوں کے لیے میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی گزارنا جائز نہیں، البتہ آپس کی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے، اس صورت میں شوہر آئندہ صرف دو طلاقوں کا مالک رہے گا۔ اگر کسی وقت دو طلاقیں اور دے دیں تو بیوی حرام ہوجائے گی۔

(الف) فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا. (رد المحتار، کتاب الطلاق، باب الكنايات)

(ب) وكذا إذا كان موصوفا بصفة تنبئ عن البينونة أو تدل عليها من غير حرف العطف مثل قوله: أنت طالق بائن أو أنت طالق حرام أو أنت طالق ألبتة ونحو ذلك وهذا عندنا. وقال الشافعي: يقع واحدة رجعية وجه قوله: أنه لما قال: أنت طالق فقد أتی بصريح الطلاق وأنه معقب للرجعة، فلما قال: بائن فقد أراد تغيير المشروع فيرد عليه كما لو قال: أعرتك عارية لا رد فيها، وكما لو قال: أنت طالق. وقال: أردت به الإبانة، ولنا أنه وصف المرأة بالبينونة بالطلاق الأول وأنه مما يحتمل البينونة ألا تری أنه تحصل البينونة قبل الدخول وبعده بعد انقضاء العدة؟ فكان قوله: بائن قرينة مبينة لا مغيرة، ثم إذا لم يكن له نية لا يقع تطليقة بقوله طالق والأخری بقوله بائن ونحو ذلك؛ لأن قوله: بائن ونحو ذلك يصلح وصفا للمرأة بالطلاق الأول فلا يثبت إلا مقتضی واحد؛ لأن ثبوته بطريق الضرورة فيؤخذ فيه بالأدنی. وكذا إذا قال لها: أنت طالق تطليقة قوية أو شديدة؛ لأن الشدة تنبئ عن القوية، والقوي هو البائن. (بدائع الصنائع، کتاب الطلاق، فصل في بيان صفة الواقع بكل واحد من نوعي الطلاق)

(ج) إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدةوبعد انقضائها. (الفتاوی الهندية، كتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4338 :

لرننگ پورٹل