لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

ماں جہیز کا جو سامان اپنے ساتھ لاتی ہے تو ماں کے انتقال کے بعد اولاد کا اس پر حق ہوتا ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

کسی کے انتقال پر اس کے تمام تر مال کے حقدار اس کے وارث ہی ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس کے انتقال پر اس کے دیگر مال کی طرح جہیز کے سامان پر بھی تمام ورثاء کا حق بقدر حصص شرعی ہوگا۔ چنانچہ میت کے انتقال پر اس کے چھوڑے ہوئے مال میں سے کفن، دفن کا درمیانہ خرچ نکالا جائے اور پھر دیکھا جائے کہ میت پر کوئی قرض وغیرہ ہو تو اس کی ادائیگی کی جائے اور پھر اگر میت نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکے کے ایک تہائی مال میں سے اسے پورا کیا جائے۔ اور پھر تمام کا تمام مال تمام ورثاء میں بقدر حصص شرعی تقسیم کیا جائے۔ ورثاء کی صحیح تعداد بتا کر مسئلہ کی تفصیلات پھر سے معلوم کر لی جائیں۔

يبدأ من تركة الميت بحق كالرهن والزكاة بالعين اعتلق فمؤن التجهيز بالمعروف فدينه ثم الوصايا توفی من ثلث باقي الإرث… وللإرث أركان، وشروط، وأسباب، وموانع. فأركانه ثلاثة: وارث، ومورث، وحق موروث، وشروطه ثلاثة: تحقق حياة الوارث، وتحقق موت المورث، والعلم بجهة الإرث. وأسبابه ثلاثة: وهي نكاح، وولاء، ونسب. (رد المحتار، باب الفرائض)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4288 :

لرننگ پورٹل