لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

کیا پولو کے مونو گرام والی شرٹ پہن کر نماز میں کوئی حرج واقع ہوتا ہے؟ اس طرح وہ کونسی تصاویر ہیں کہ اگر شرٹ پر موجود ہوں تو نماز میں کراہت کا باعث ہوتی ہیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

جس لباس میں جاندار کی ایسی تصاویر ہوں جن کی شکلیں واضح ہوں ناک، کان وغیرہ صاف نظر آ رہے ہوں، اس لباس کو پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔  سوال کے ساتھ تين تصاویر بھیجی گئی ہیں۔

۱۔پہلی تصویر میں اعضائے تصویر اگر چہ غیر واضح ہیں مگر تصویر بڑی دکھائی دے رہی ہے، اس کی وجہ سے اسے پہن کر نماز پڑھنا مناسب  نہیں۔

۲۔بقیہ دونوں تصاویر میں کمپنی مونو گرام نسبتا کافی چھوٹا اور غیر واضح ہے، اس لیے اسے پہن کر نماز پڑھنے میں تصویر کی بناء پر کوئی کراہت نہیں۔

۳۔البتہ اس طرح کی آدھی آستین والی اکثر شرٹیں کھیل کود، ورزش یا محنت و مشقت والے کام کاج کے دوران پہنی جاتی ہیں، اور بنیان نما دکھائی دیتی ہیں اور انھیں پہن کر کسی پر تکلف مجلس میں جانا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے  اس بناء پر اس طرح کی شرٹوں کو پہن کرنا نماز پڑھنا مکروہ ہوگا۔ البتہ اگر کوئی شرٹ ایسی نہ ہو اور اسے پہن کر شرفاء کی مجلس میں شرکت کی جا سکتی ہو تو اسے پہن کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔

(ألف) (و) كره…(وصلاته في ثياب بذلة) يلبسها في بيته (ومهنة) أي خدمة. (رد المحتار، كتاب الصلاة)

(ب) (ولبس ثوب فيه تماثيل) ذي روح، وأن يكون فوق رأسه أو بين يديه أو (بحذائه) يمنة أو يسرة أو محل سجوده (تمثال) ولو في وسادة منصوبة لا مفروشة…بنقش غير مستبين. قال في البحر ومفاده كراهة المستبين لا المستتر بكيس أو صرة أو ثوب آخر، وأقره المصنف (أو كانت صغيرة) لا تتبين تفاصيل أعضائها للناظر قائما وهي علی الأرض، ذكره الحلبي (أو مقطوعة الرأس أو الوجه) أو ممحوة عضو لا تعيش بدونه. (الدر المختار، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4232 :

لرننگ پورٹل