لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022

 مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص پر زمین فروخت کی اور حوالہ نہیں دیا اور رہن کے طور پر ان کو دوکان دی اور کہا کہ اگر فلاں تاریخ کو میں نے زمین حوالہ نہیں کی تو یہ دوکان آپ کی ہوگی، اس طرح خرید اور فروخت جائز ہے ؟

الجواب باسم ملهم الصواب

بیع سلم کے علاوہ عام بیع میں بیچنے والے پر لازم ہے کہ خریدی جانے والی چیز خریدار کے حوالے کردے، لیکن اگر فی الفور حوالہ کرنا دشوار ہو تو بیع مکمل ہونے کے بعد اس سے مہلت مانگ لے، لیکن اس کو بطور شرط ذکر نہ کرے۔ مثلا اگر کسی نے گھر خریدا تو بیچنے والے پر لازم ہے کہ بیع مکمل ہونے کے بعد گھر خریدار کے حوالے کردے، لیکن چونکہ گھر خالی کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے تو یوں خریدار سے دو تین ماہ کی مہلت مانگ لے لیکن یہ شرط نہ لگائے کہ یہ گھر میں تین ماہ بعد دوں گا، اگر یہ شرط لگائی تو یہ معاملہ فاسد ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر خریدار نے قیمت ادا نہیں کی تو قیمت کی ادائیگی تک بیچنے والے کو وہ چیز روکنے کا اختیار ہے۔ 

لہذا صورت مسئولہ میں زمین بیچنے والے پر لازم ہے کہ زمین خریدار کے حوالے کرے، اگر فی الفور حوالگی مشکل ہے تو اس سے مہلت مانگ لے، لیکن زمین کو ادھار کرکے اس کے بدلے میں رہن رکھوانا درست نہیں۔

للبائع حبس المبيع إلی قبض الثمن، ولو بقي منه درهم. (رد المحتار، کتاب البیوع، مطلب فيما يكون قبضا للمبيع)

(ولو) (باع مطلقا عنها) أي عن هذه الآجال (ثم أجل الثمن) الدين، أما تأجيل المبيع أو الثمن العيني فمفسد. (الدر المختار،کتاب البیوع، باب البيع الفاسد)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4184 :

لرننگ پورٹل