لاگ ان
بدھ 06 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 30 نومبر 2022
لاگ ان
بدھ 06 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 30 نومبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 06 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 30 نومبر 2022
بدھ 06 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 30 نومبر 2022

 ۲۰۰۷ء میں میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا، ان کے انتقال کے بعد میری پڑھائی کی ذمہ داری میرے ماموں نے لی، ۲۰۱۴ء میں انہوں نے مجھے دارالعلوم کراچی میں داخلہ دلوایا، چونکہ میں پہلی مرتبہ گھر سے اتنا دور آیا تھا اس لیے میرا دل نہیں لگا اور میں نے مدرسہ چھوڑدیا، پھر ماموں کے گھر ہی میں دو سال رہا، گھر کے کام وغیرہ کرتا تھا، پھر مجھے شوق ہوا جامعۃ الرشید کا، لیکن وہاں کتابیں زیادہ ہونے کی وجہ سے میں نہیں پڑھ سکا، یعنی مجھے دو مرتبہ عالم بننے کا موقع دیا گیا حالانکہ دنیا کا اصول ہے کہ بندہ کو تین مرتبہ موقع ملنا چاہیے۔ اب یہی ماموں کہتے ہیں کہ میں نے تم پر اتنے پیسے خرچ کیے ہیں اب کام کرو اور پیسے کماؤ۔ والدہ کی دوسری شادی ہوگئی ہے وہ بھی کہتی ہیں کہ کام کرو، دادا دادی بھی کہتے ہیں کہ کام کرو، دو چھوٹے بہن بھائی ہیں۔ مجھے بہت شوق ہے باقاعدگی سے شریعت وطریقت سیکھنے کا، میں دین کی خدمت کرنا چاہتا ہوں، خصوصاً امت کے نوجوانوں کی تربیت کے حوالے سے کام کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے خاندان میں ایک بھی مولوی نہیں ہے اور ہی کوئی حافظ۔ میں اگر کمانے لگ گیا تو پھر دین کےلیے وقت نکالنا مشکل ہوجائے گا۔ ذیل میں اپنے چند سوالات درج کیے ہیں، ان کا جواب عنایت فرمائیں۔

۱۔ گھر والے سخت مخالف ہوں تو ان کی اجازت کے بغیر عالم بننے کےلیے گھر سے چلے جانا شرعًا کیسا ہے؟

۲۔ وہ کون سے کام ہیں جن میں والدین کی نافرمانی جائز ہے؟

۳۔ صحبت اہل اللہ کے فوائد کیا ہیں؟

۴۔ طریقت سے کیا مراد ہے؟

۵۔ پیری مریدی کیا چیز ہے؟

۶۔ خانقاہ میں کتنے دن رہنے سے تبدیلی محسوس ہوتی ہے؟

۷۔ زہد کیا چیز ہے؟

۸۔شریعت میں غیرت لفظ کے کیا معنی ہیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

۱۔   چھوٹے بہن بھائیوں کے نان نفقہ کا انتظام اگر دادا یا کسی رشتہ دار کی طرف سے ہورہا ہے تو پھر آپ اپنی تعلیم جاری رکھیں اور اس میں محنت کریں، لیکن اگر دادا دادی خود نفقہ کے محتاج ہیں اور چھوٹے بہن بھائیوں کے نفقہ کا انتظام بھی نہیں تو اس صورت میں آپ پر چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کرنا ضروری ہے۔ اگر اس مقصد کےلیے تعلیم وتعلم چھوڑنا پڑے تو چھوڑ دیں۔

(وَ) تَجِبُ أَيْضًا (لِكُلِّ ذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ صَغِيرٍ أَوْ أُنْثَی) مُطْلَقًا (وَلَوْ) كَانَتْ الْأُنْثَی (بَالِغَةً) صَحِيحَةً (أَوْ) كَانَ الذَّكَرُ (بَالِغًا) لَكِنْ (عَاجِزًا) عَنْ الْكَسْبِ (بِنَحْوِ زَمَانَةٍ) كَعَمًی وَعَتَهٍ وَفَلْجٍ، زَادَ فِي الْمُلْتَقَی وَالْمُخْتَارِ: أَوْ لَا يَحْسُنُ الْكَسْبُ لِحِرْفَةٍ أَوْ لِكَوْنِهِ مِنْ ذَوِي الْبُيُوتَاتِ أَوْ طَالِبَ عِلْمٍ (فَقِيرًا) حَالٌ مِنْ الْمَجْمُوعِ بِحَيْثُ تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ وَلَوْ لَهُ مَنْزِلٌ وَخَادِمٌ عَلَی الصَّوَابِ بَدَائِعُ (بِقَدْرِ الْإِرْثِ) – {وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ} – (وَ) لِذَا (يُجِيرُ عَلَيْهِ). (الدر المختار، كتاب الطلاق، باب النفقة)

۲۔ اگر والدین اللہ تعالی کی نافرمانی کا حکم دیں تو ان کی مخالفت جائز ہے۔ اس كے علاوہ ہر معاملے میں ان کو اپنا محسن اور خیر خواہ سمجھ کر ان کی نصیحت کی قدر دانی کریں اور اس کے مطابق عمل کریں۔

حدیث شریف میں ہے:لا طاعة لمخلوق في معصية الله عز وجل. (مسند احمد، ومن مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه) ترجمہ:’’اللہ کی معصیت والے کاموں میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں‘‘۔

۳۔صحبت اہل اللہ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان کا شریعت پر چلنا آسان ہو جاتا ہے، عمل کا شوق بڑھتا ہے ، اپنے عیوب معلوم ہوتے ہیں، اور انسان ایک متبع سنت شخص کی صحبت میں رہ کر خود بھی متبع سنت بن جاتا ہے بشرطیکہ وہ اپنے شیخ کی ہدایات پر عمل کرے۔

۴۔ شریعت احکام تکلیفیہ کے مجموعہ کا نام ہے جس میں ظاہری اور باطنی دونوں طرح کے اعمال شامل ہیں پھر ظاہری اعمال کو علیحدہ سے فقہ کہا جاتا ہے اور باطنی اعمال کے طریقوں کو طریقت کہتے ہیں۔ (ماخوذ از امداد الفتاوی)

۵۔پیری مریدی  شيخ کی جانب سے اصلاح اور مرید کی طرف سے  اطاعت وفرمانبرداری کا نام ہے۔ ہاتھ میں ہاتھ دینا ضروری نہیں۔ اصل بیعت یہ ہے کہ شیخ تعلیم کرے اور مرید اس کی اتباع وفرمانبرداری۔(ملخص از انفاس عیسی، صفحہ۴۲، مطبع:مکتبۃ البشری) تاهم شیخ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کرنا یہ بھی مسنون عمل ہے، جس شخص پر اعتماد ہو اس سے بیعت کرلی جائے۔ 

أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، مِنَ الَّذِينَ شَهِدُوا بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمِنْ أَصْحَابِهِ لَيْلَةَ العَقَبَةِ أَخْبَرَهُ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ : تَعَالَوْا بَايِعُونِي عَلَی أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللهِ شَيْئًا ، وَلاَ تَسْرِقُوا ، وَلاَ تَزْنُوا ، وَلاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ ، وَلاَ تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ ، وَلاَ تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ ، فَمَنْ وَفَی مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَی اللهِ ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فِي الدُّنْيَا , فَهُوَ لَهُ كَفَّارَةٌ ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ فَأَمْرُهُ إِلَی اللهِ ، إِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ ، وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ , قَالَ : فَبَايَعْنَاهُ عَلَی ذَلِكَ. (صحیح البخاري، كتاب مناقب الأنصار، بَابُ مَنَاقِبِ الأَنْصَارِ)

۶۔ شیخ کی ہدایات کے مطابق خانقاہ میں وقت گزارنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ اس کےلیے کوئی مقررہ وقت نہیں ہے بلکہ فرصت نکال کر وقتا فوقتا حاضری کا معمول بنایا جائے۔

۷۔حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ زہد یہ ہےکہ دل میں مال کی رغبت کم ہوجائے  اور اس کے حصول کا طریقہ کچھ یوں بیان فرمایا: تحصیلِ زہد کا طریقہ یہ ہے کہ مخلوق کے ہاتھ میں جو کچھ متاعِ دنیا ہے سب سے امید قطع کردے۔ جو شخص ایسا کرے گا اس کا قلب راحت میں رہے گا، کیوں کہ زہد قلب اور بدن دونوں کو راحت دیتاہے۔ (انفاس عیسی، صفحہ:۱۸۱، مطبع: مکتبۃ البشری)

۸۔  شرعی غیرت کا مطلب  یہ ہےکہ فحش اور بےحیائی کے کاموں کو دیکھ کر غصہ آئے اور خود بےحیائی اور بے غیرتی کے کاموں سے اجتناب کرے اور دوسروں کو بچانے کی فکر پیدا ہوجائے اور اس کی کوشش کرے۔

وعبّر عن القوة الغضبية إذا ثارت وكثرت بالحَمِيَّة. (المفردات في غريب القرآن، كتاب الحاء، حمی)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4276 :

لرننگ پورٹل