لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

میری شادی کو دو سال ہونے والے ہیں، میں ایسی مجالس میں شرکت نہیں کرتی جہاں مرد اور عورتیں ایک ساتھ شریک ہوں، میرے شوہر ایسے مخلوط اجتماعات میں جاتے ہیں، جہاں ان کے کالج اور یونیورسٹی کے دوست شریک ہوتے ہیں، ان میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہوتے ہیں۔ شادی سے پہلے میں ایک جاب کرتی تھی تو کسی کام کے سلسلے میں ان سے فون پر ضروری بات کی تو انہوں نے میرے والد کا نمبر لے کر شادی کا پیغام دےدیا اور بالاخر شادی ہوگئی۔ شادی سے پہلے مجھے ان کے بارے میں معلوم تھا مگر اس وقت میں نے اس کا ذکر نہیں کیا، اب بھی وہ خود مخلوط مجالس میں جاتے ہیں اور میں پردہ کرتی ہوں، ایسے پروگراموں میں نہیں جاتی البتہ شوہر کے جانے سے مجھے تکلیف ہوتی ہے تو ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ اور ساتھ ہی یہ بھی بتائیے کہ کیا میں نے جو ان سے فون پر بات کی تھی وہ میں نے غلط کیا تھا؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

مرد و عورت کا بلا ضرورت بات چیت کرنا ناجائز ہے ماضی میں جو گناہ ہو گیا اس پر توبہ کریں نیز شوہر کے حق میں ہدایت کی دعا کرتی رہیں اور ان کو محبت سے سمجھائیں کہ  بلا ضرورت شدیدہ مردوں عورتوں کا مخلوط اجتماع نا جائز ہے، کیوں کہ اس سے فتنے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے اس اختلاط سے منع فرمایا ہے۔

بخاری شریف میں ہے:عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی الله علیه وسلم قَالَ:"إِیَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَی النِّسَاءِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ یَا رَسُولَ اللَّهِ: أَفَرَأَیْتَ الْحَمْوَ؟ قَالَ: الْحَمْوُ الْمَوْتُ". (بخاری، کتاب النكاح، بابٌ لا یَخْلُوَنَّ رجُلٌ بامْرَأةٍ إِلَّا ذُو مَحْرَم، والدُّخولُ عَلَی المُغِیبَةِ) ترجمہ:’’حضرت عقبه بن عامر رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورتوں کے پاس جانے سے بچو ایک انصاری صحابی نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ عورت کے لیے سسرالی رشتے دار دیور، جیٹھ وغیرہ کے بارے میں کیا حکم ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ تو موت ہیں (یعنی سسرالی رشتے داروں سے پردہ نہ کرنا موت کی طرح خطرناک ہے)‘‘۔

حدیث شریف میں ہے:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:سَمِعْتُ النَّبِیَّ – صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ – یَخْطُبُ: "أَلَا لَا یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ، ولا تسافر إِلَّا وَمَعَهَاذُومَحْرَمٍ. (صحیح ابن خزیمة، كتاب المناسك، باب ذكر خروج المرأة لأداء فرض الحج بغیر محرم…) ترجمہ:’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا خبردار کوئی مرد کسی اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کرے اور کوئی عورت بغیر محرم کے سفر نہ کرے‘‘۔

مسند احمد میں ہے: وَلا یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّیْطَانُ. (مسند احمد، مسند العشرة المبشرین بالجنة، مسند الخلفاء الراشدین، أول مسند عمر بن الخطاب رضی الله عنه) ترجمہ:’’رسول اللہﷺ نے فرمایا : کوئی مرد کسی اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کرے کیونکہ ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے‘‘۔

ان روایات سے معلوم ہوا کہ مرد و عورت کا بلا ضرورت تنہائی اختیار کرنا یا کسی بڑے مجمعے میں دونوں کا ایک ساتھ جمع ہونا جائز نہیں کیونکہ وہاں شیطان اپنا کام کرتا ہے اور فتنے میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4284 :

لرننگ پورٹل