لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

 ہم چار بھائی ہیں، بڑے سے چھوٹے بھائی کی ابھی شادی ہوئی، جس میں ایک کمرہ اور ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے مہر طے پایا، ہمارا تین کمروں کا ایک مکان ہے، میں سب سے چھوٹا بھائی ہوں اور والدین اگر میرے ساتھ رہتے ہیں تو وہ گھر میرا ہی ہوگا، باقی تین بھائیوں کو شادی کے بعد علیحدہ علیحدہ مکان بنانے ہوں گے، اب اگر بھابھی اپنے کمرے کا مطالبہ کریں جو ان کے حق مہر میں طے ہوا تھا تو میرے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ ان تین کمروں میں سے ایک کمرہ انہیں دینا پڑے گا یا متبادل کوئی کمرہ بناکے دینا پڑےگایا پیسے دینے پڑیں گے یا یہ کہ یہ میری ذمہ داری نہیں ہے، ان کے شوہر کی ذمہ داری ہے؟ اس حوالے سے مجھے رہنمائی درکار ہے۔

الجواب باسم ملهم الصواب

اگر مہر میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے کے ساتھ ساتھ ایک کمرے میں رہائش کی شرط لگائی گئی ہے تو الگ رہائش شرعا بیوی کا حق ہے، مہر میں اس کا تذکرہ ہونا ضروری نہیں۔ لیکن اگر مہر میں ایک کمرے کی ملکیت طے کی گئی ہے تو یہ خاوند کی ذمہ داری ہے کہ کل مہر اپنی ہی ملکیت سے ادا کرے، اس کے علاوہ کسی اور پر مہر کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔

ثم عرف المهر في العناية بأنه اسم للمال الذي يجب في عقد النكاح علی الزوج في مقابلة البضع إما بالتسمية أو بالعقد… النكاح ما شرع إلا مثمرا ثمرات في الملك بين المتناكحين، منها: ما تختص هي بملكه كالنفقة والسكنی. (رد المحتار، کتاب النکاح، باب المهر)

جس مکان میں آپ رہائش پذیر ہیں اگر والد کی ملکیت میں ہے تو جب تک وہ حیات ہیں مکان ان ہی کی ملکیت ہے، ان کے بعد تمام ورثاء شرعی حصوں کے برابر حقدار ہوں گے۔محض آپ کا والدین کے ساتھ رہائش پذیر ہونے سے مکان میں آپ کی تنہا ملکیت ثابت نہ ہوگی۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4269 :

لرننگ پورٹل